روس میں ایڈز کی وباء میں اضافہ

ایچ آئی وی اور ایڈز بیماری کے ایک ماہر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ روس ميں یہ وباء بہت تیزی سے پھیل رہی ہے۔
بین الاقوامی ایڈز سوسائٹی کے سربراہ رابن گورنا نے روسی حکومت سے اس بیماری کو خاص طور پر منشیات استعمال کرنے والوں میں پھیلنے سے روکنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی درخواست کی ہے۔ایک اندازے کے مطابق روس ميں تقریبًا بیس لاکھ افراد منشیات کا استعمال کرتے ہيں۔
مسٹر گورنانے یہ بات ماسکو میں جلد ہی منقعد کی جانے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس سے قبل کہی ہے۔اس بین الاقوامی کانفرنس میں بیرونی ماہرین روسی حکومت پر اس قانون کو ختم کرنے پر دباؤ ڈالیں گے جو بقول ماہرین وباء پھیلنے کی شرح کو کم کرنے میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔
ایک اندازے کے مطابق روس ميں کم از کم دس لاکھ افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہیں۔ ان اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ روس ميں پچھلی ایک دہائی میں اس بیماری سے متاثرہ افراد کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔
متاثرہ افراد ميں بیشتر نوجوان ہیں جن کی عمر تیس برس سے کم ہے۔ بیشتر متاثرہ افراد میں یہ بیماری ہیروئین (ڈرگ) لینے کے لیے ایک ہی انجیکشن کے استعمال سے پھیلی ہے۔
بعض اندازوں کے مطابق روس ميں انجیکشن سے منشیات کا استعمال کرنے والوں کی تعداد تقریبًا بیس لاکھ ہے۔ روس میں افغانستان سے بڑی مقدار میں ہیروئین پہنچتی ہے۔
روس میں کسی نشے کے عادی فرد کو ہیروئین کے انجیکشن کی جگہ ’میتھاڈون ‘جیسا مادہ دینا غیر قانونی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کسی نیڈل تبدیلی پروگرام کو بھی مالی مدد فراہم نہیں کرتی ہے۔
بیرونی ماہرین کے لیے یہ ایک تشویشناک بات ہے کیونکہ اب تک بیرونی امداد فراہم کرنے والے ہی روس ميں ایڈز روکنے والے بڑے پروگرام کو مالی مدد فراہم کرتی رہی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن ایسی اطلاعات ہیں کہ اب روس کو بیرونی مالی مدد بند کر دی جائے گی کیونکہ روس کی پہچان اب ایک اوسط درجے کی آمدن والا ملک ہے اور وہ اب غیر ملکی مدد نہیں چاہتا ہے۔



















