امریکہ مشرق وسطیٰ مذاکرات شروع کرانے میں ناکام

ہیلری کلنٹن اور محمود عباس
،تصویر کا کیپشندونوں راہنماوں کے درمیان ملاقات ابو ظہبی
وقت اشاعت

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اسرائیل کی طرف یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے کے انکار کےباوجود دونوں فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ جلد مذاکرات شروع کریں۔

فلسطین نے یہودی بستیوں کے روکے بغیر اسرائیل سے مذاکرات سے صاف انکار کر دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے اسرائیل کی طرف سے بستیوں کی تعمیر پر ’صبر‘ سے کام لینے کی اسرائیلی پیشکش کو ’غیر معمولی‘ قرار دیا ہے جبکہ فلسطین رہنماؤں نےاس پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ نے اسرائیلی اور فلسطینیوں پر زور دیا ہے کہ وہ جتنا جلد ہو سکے مذاکرات کی میز تک پہنچ کر اپنے تمام تصفیہ طلب معاملات پر غورکریں۔

فلسطینوں کا موقف ہے کہ مذاکرات شروع کرنے سے پہلے اسرائیل یہودی بستیوں کی تعمیر کو روک دے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے بستیوں کی تعمیر کو روکنے کا مطالبہ دراصل مذاکرات سے بھاگنے کا ایک بہانہ ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اسرائیل مذاکرات کو فوراً شروع کرنے پر رضامند ہے لیکن انہوں نے یہودی بستیوں کی تعمیری کو روکنے سےانکار کیا۔اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ فلسطینوں نے ماضی میں مذاکرات کے لیے کبھی بھی پیشگی شرائط نہیں رکھی تھیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے یہودی بستیوں کی تعمیر کے بارے میں صبر سے کام لینے جو پشکش کی ہے وہ غیر معمولی ہے اور دونوں فریقوں کو جلد سے جلد مذاکرات کی میز پر واپس آنا چاہیے۔

اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات سے پہلے امریکی وزیر خارجہ نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس سے دبئی میں ملاقات کی۔

فلسطینی رہنما کے ترجمان صائب اراکات نے امریکی وزیر خارجہ کے ساتھ بات چیت مشکل تھی مگر کھلے انداز ‘ میں ہوئی۔

فلسطینی اتھارٹی کے صدر نے صحافیوں کو بتایا کہ اسرائیل کو یہودی بستیوں سے متعلق اپنے وعدوں کو نبھانا چاہیے۔

یروشلم میں بی بی سی کے نامہ نگار پال وڈ کا کہنا ہے کہ یہودی بستیوں کی تعمیر پر امریکہ نے اسرائیل کے موقف کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔

محمود عباس سے ملاقات سے قبل ہیلری کلنٹن نے کہا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکرات شروع کرانا امریکہ کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ فلسطین کے مسئلے کے دو ریاستی حال پر قائم ہے۔

امریکی وزیر خارجہ اور فلسطینی اتھارٹی کے صدر کے درمیان ملاقات کے بعد ایک اعلیٰ فلسطینی اہلکار نے کہا کہ کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ محمود عباس نے ایک مرتبہ پھر اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل مقبوضہ علاقوں میں جب تک یہودی بستیوں کی تعمیر مکمل طور پر بند نہیں کر دیتا اس وقت تک امن مذاکرات شروع نہیں ہو سکتے۔