مشرق وسطیٰ: امن کی بحالی اور صدر اوباما

- مصنف, جیریمی بوون
- عہدہ, ایڈیٹر مشرقِ وسطیٰ، بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
پچھتاوا انسانی جذبات کا سب سے کمتر احساس تصور کیا جاتا ہے۔ کیا امن کے نوبل انعام یافتہ امریکہ کے صدر براک اوباما اپنے دورے صدرارت کا ایک سال مکمل ہونے سے پہلے ہی اس کا شکار ہونے جا رہے ہیں۔
رواں سال جون میں جب صدر براک اوباما مصر کے شہر قاہرہ گئے تھے تو موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ دورہ ان کے لیے کافی آسان ثابت ہوا تھا۔
انھوں نے قاہرہ یونیورسٹی کے گرینڈ ہال میں مسلمانوں سے خطاب کیا جس میں وہ بہت پر عزم تھے۔
ان کی تقریر کے بارے میں کہا گیا تھا کہ امریکہ کے سابق حکمرانوں کے دور میں کیے گئے اقدامات کے برعکس مسلم دنیا اور خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک کے ساتھ خراب تعلقات کو بہتر کرنے کی جانب ایک قدم ہے ۔اس سے کہیں زیادہ اہم بات صدر اوباما کی مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی میں دلچسپی تھی۔
قاہرہ میں ان کی تقریر سے یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ خطے میں وہ بطور امریکی صدر معاملات کو بہتر کرنے جا رہے ہیں۔اس تقریر کے دوران ان کی پینتیس بار تعریف کی گئی اور ایک موقع پر ہال میں سے کسی نے یہ بھی کہا کہ ’ہمیں آپ سے پیار ہے‘۔
قاہرہ کی تقریر کے بعد میرا ایک فلسطینی دوست اضطراب کا شکار ہو گیا ’عربوں کی امیدیں ایک بار پھر بڑھیں ہیں اور اگر دوبارہ امیدیں کم ہوئیں تو یہ ایک بہت بڑا المیہ ہو گا۔‘
لیکن جس المیے کی پیشن گوئی کی گئی تھی وہ اب پوری ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ صدر اوباما کی تقریر میں سے صرف ایک مختصر حصہ فلسطین اور اسرائیل کے حوالے سے تھا۔
انھوں نے مسلم دنیا کے تعلقات سے وابستہ بنیادی مسائل کو ہی اجاگر کرنے کی کوشش کی تھی۔ صدر اوباما نے تقریر میں بہترین الفاظ کا استعمال کیا لیکن سامعین نے تقریر کے ان پہلوؤں کو ہی یاد رکھا جو انھیں پسند آئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جب صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ کا اسرائیل کے ساتھ نہ ٹوٹنے والا تعلق ہے اور جب انھوں نے یہودیوں کی نسل کشی یعنی ہولو کاسٹ کی نفی کو ’بے بنیاد اور نفرت آمیز‘ قرار دیا تو سامعین خاموش تھے لیکن انہی سامعین نے اس وقت خوشی کا اظہار کیا جب صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ اسرائیل کی جانب سے نئی یہودی آبادیوں کے قیام کے جواز کو قبول نہیں کرتا ہے۔
صدر اوباما کی قاہرہ میں کی جانے والی تقریر کو مجموعی طور پر پسند کیا گیا جو کہ مشرق وسطیٰ کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے تھی نہ کہ اس حوالےسے امریکی کی پالیسی میں ایک انقلابی تبدیلی کے حوالے سے تھی۔
لیکن صدر اوباما کی تقریر سے عرب دنیا نے یہ تاثر لیا کہ ماضی کے امریکی حکمرانوں کے برعکس ان کی اسرائیل کے حوالے سے پالیسی زیادہ سخت ہوگی۔
اب موجودہ وقت میں ان کی انتظامیہ عرب دنیا سے کچھ سفارتی رعایتیں حاصل کرنے کے لیے یہ تاثر دینے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ وہ اسرائیل کے رویے کو تبدیل کر رہے ہیں لیکن اسرائیل نے مقبوضہ علاقے میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر دوبارہ شروع کر دی ہے۔
امریکہ کے قریبی ایک عرب ملک کے وزیر خارجہ نے مجھے بتایا کہ نئی آبادکاری کو روکے رکھنا لازمی تھا تاکہ غزہ کی جنگ کے بعد عرب دنیا کا غصہ کم کرنے کے بعد نئے سرے سے امن مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا جا سکے۔
صدر اوباما کا مسئلہ یہی ہے کہ وہ اسرائیل کے حوالے سے کوئی اہم کامیابی حاصل نہیں کر پائے ہیں۔ اسرائیل نے مقبوضہ فسلطینی علاقے میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے سے انکار کر دیا ہے۔
صدر اوباما کی قائرہ تقریر سے پہلے امریکہ کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے کہا تھا کہ صدر اوباما نے نئی بستیوں کی تعمیر مکمل طور پر روکنا چاہتے ہیں۔ ہیلری کلنٹن نے مصر کے وزیر خارجہ کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا تھا کہ صدر اوباما کا یہ پیغام واضح ہے۔
ہیلری کلنٹن ان دنوں مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں تاکہ اسرائیل اور فلسطین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔
امریکہ کی اسرائیل کے حوالے سے ناکامی پر فلسطین کے صدر محمود عباس کی سیاسی ساکھ خراب ہوئی ہے۔انھوں نے اب تک وہ ہی کیا ہے جو امریکہ انھیں کہتا آیا ہے۔ ان کی سکیورٹی فورسز کو امریکہ اور یورپی ممالک کے مشیروں اور ماہرین سے بہترین رپورٹس ملی تھیں۔
حالیہ دنوں فلسطینی صدر محمود عباس نے امریکہ کے دورے میں صدر اوباما کی موجودگی میں اسرائیل کے وزیراعظم کے ساتھ کیمرے کے سامنے ہاتھ ملانے پرآمادگی ظاہر کی تھی۔ اس موقع پر لی گئی تصاویر سے ظاہر ہوتا تھا کہ ایک بڑا معاہدہ ہو گیا، جس میں اسرائیلی وزیراعظم نئی یہودی بستیوں کی تعمیر دوبادہ شروع ہونے کا تاثر دے رہے تھے جب کہ صدر اوباما اور محمود عباس پریشان دیکھائی دے رہے تھے۔
اس کے بعد فسلطینی صدر محمود عباس نے امریکہ کی درخواست پر غزہ جنگ کے متعلق اقوام متحدہ کی گولڈن سٹون رپورٹ پر بیان دینے سے گریز کیا جس کی وجہ سے فلسطین میں ایک سیاسی تنازع پیدا ہوا اور ان کی سیاسی ساکھ کافی متاثر ہوئی۔
محممود عباس ابھی تک اس بات پر اصرار کر رہے ہیں کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے جب تک اسرائیل نئی بستیوں کی تعمیر نہیں روکتا ہے جب کہ اسرائیل مسلسل مقبوضہ علاقے میں بستیاں تعمیر کر رہا ہے اور امریکہ دونوں فریقین کو قائل کرنے کی کوششوں میں ہے کہ مذاکرات کیے جائیں۔
موجودہ حالات صدر اوباما کے لیے بہت آغاز کے دن ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ میں وقت کا زیادہ خیال نہیں رکھا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں خطے میں تشدد کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ اگر صدر اوباما مشرق وسطیٰ میں جاری امن کی کوششوں کو ناکام نہیں دیکھنا چاہتے ہیں تو انھیں بہت جلد سفارتی کامیابی حاصل کرنا ہو گی۔



















