اٹلی: سی آئی اے ایجنٹس ’قصوروار‘

وکلاء کا کہنا ہے کہ ابوعمر کو سی آئی اے کے ’غیر معمولی حوالگی‘ کے پروگرام کے حراست میں لے کر مصر لے جایا گیا
،تصویر کا کیپشنوکلاء کا کہنا ہے کہ ابوعمر کو سی آئی اے کے ’غیر معمولی حوالگی‘ کے پروگرام کے حراست میں لے کر مصر لے جایا گیا
وقت اشاعت

اٹلی کی ایک عدالت نے سی آئی اے کے تئیس ایجنٹوں کو ایک مسلمان عالم کے اغواء کا قصوروار قرار دیا ہے۔

اطالوی عدالت نے اٹلی کے دو خفیہ اہلکاروں کو بھی سن دو ہزار تین میں ہونے والے اس اغواء میں مجرم ٹھہرایا ہے۔

خفیہ ایجنٹوں پر الزام ہے کہ انہوں نے حسن مصطفیٰ اوسامہ عمر المعروف ابو عمر کو میلان سے اغواء کر کے مصر بھیجا تھا جہاں انہیں ٹارچر کا نشانہ بنایا گیا۔

جون سن دو ہزار سات میں شروع ہونے والا یہ مقدمہ پہلا مقدمہ ہے جس میں سی آئی اے کے ’غیر معمولی حوالگی‘ کے پروگرام کو موضوع بنایا گیا ہے۔

اس مقدمے میں نامزد تین امریکیوں اور پانچ اطالوی باشندوں کو بری کر دیا گیا۔ سی آئی اے ایجنٹوں پر ان کی موجودگی میں مقدمہ چلایا گیا۔

عدالت نے میلان میں سی آئی اے کے سٹیشن چیف رابرٹ لیڈی کو آٹھ سال قید کی سزا سنائی ہے جبکہ باقی بائیس امریکیوں کو پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

دو اطالوی ایجنٹوں کو تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

استغاثہ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ابوعمر کو سی آئی اے کے ’غیر معمولی حوالگی‘ کے پروگرام کے حراست میں لے کر مصر لے جایا گیا۔ اس پروگرام کے تحت دہشت گردی کے مبینہ ملزمان کو عام قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ایک ملک سے دوسرے ملک لے جایا جاتا تھا۔