لبنان میں سیاسی تعطل ختم

وقت اشاعت

لبنان میں حزب اختلاف کی جماعتیں، نامزد وزیر اعظم سعد حریری کی قومی حکومت میں شامل ہونے پر متفق ہو گئے ہیں۔

شیعہ فرقے سے تعلق رکھنے والی ایک طاقت ور سیاسی اور مسلح تنظیم حزب اللہ کا کہنا ہے کہ جمعہ کو ہونے والے اجلاس میں اس کی قیادت میں قائم اتحاد میں شامل جماعتوں میں حکومت میں شامل ہونے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

حکمران اتحاد کئی رعاتیں دینے پر متفق ہو گیا ہے جس کے بعد جون میں انتخابات کے بعد پیدا ہونے والا سیاسی تعطل ختم ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

وزیراعظم سعد حریری اس معاہدے کا جلد ہی اعلان کرنے والے ہیں۔

بیروت میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار نتالیا انتیلاوا کا کہنا ہے کہ سعد حریری سے طے پانے والے معاہدے کے بعد حزب اختلاف کو وہ وزارتیں مل جائیں گی جن کا وہ مطالبہ کر رہی تھیں۔

اطلاعات کے مطابق نئے معاہدے کے بعد حریری کو پندرہ وزارتیں ملیں گی جب کہ حزب اللہ کی قیادت میں قائم اتحاد میں شامل جماعتوں کو دس وزارتیں حاصل ہو جائیں گی۔ باقی ماندہ دس وزارتوں کا فیصلہ صدر میشال سلیمان کریں گے۔

سعد حریری جنھیں امریکہ کی حمایت حاصل تھی مصر مخالف جماعتوں کے اتحاد کی قیادت کر رہے ہیں اور پانچ ماہ قبل اس اتحاد نے انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔

سعد حریری انتخابات میں کامیابی کے بعد سے اب تک حزب اختلاف کی جماعتوں کو قومی یکجہتی کی حکومت میں شامل کرنے کے لیے مذاکرات میں مصروف تھے۔

اس معاہدے میں سب سے بڑی رکاوٹ حزب اللہ کے اتحادی عیسائی رہنما مائیکل اون کی طرف سے مواصلات کی وزارت کا مطالبہ تھا۔