عراقی پارلیمان، انتخابات پر متفق

وقت اشاعت

عراقی پارلیمنٹ نے کئی ہفتوں کی بحث کے بعد ایک قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت ملک میں عام انتخابات معمول کے مطابق جنوری میں کرائے جائیں گے گو کہ عام انتخابات کی تاریخ کا تعین کیا جانا ابھی باقی ہے۔

عام انتخابات منصوبے کے مطابق جنوری میں کرانے کا اعلان کم از کم دس مرتبہ موخر کیا گیا کیونکہ ارکان پارلیمان تیل سے مالا مال شمالی خطے کرکک کو دی جانے والی نشستوں کے معاملے پر متفق نہیں ہو رہے تھے۔

عراق کی پارلیمان کو اقوام متحدہ ، امریکہ اور ملک کے سیاسی اور مذہبی راہنماوں کی طرف سے اس معاملے کو حل کرنے کے بارے میں شدید دباؤ کا سامنا تھا۔

پارلیمان کی طرف سے منظور کیئے جانے والے قانون کے تحت ووٹر سیاسی جماعتوں کے بجائے اپنے پسندیدہ امیدواروں کو ووٹ ڈال سکیں گے۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے اس قانون کے منظور کیے جانے پر عراق کی پارلیمان اور عوام کو مبارک باد دی ہے۔

امریکی صدر نے عراقی پارلیمان میں انتخابات کے معاملے پر اتفاق رائے کو ایک سنگ میل قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ عراق کے ارکان پارلیمان نے جس لچک اور ملک سے اپنی وفاداری کا ثبوت دیا ہے اس نے پوری دنیا کو ایک پیغام دیا ہے کہ وہ جہموریت اور اپنے ملک کی یکجہتی کے بارے میں کس قدر سنجیدہ ہیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکہ عراق کے ساتھ ایک دوست اور شراکت دار کی طرح کھڑا رہے گا اور انتخابات سے عراق سے امریکی فوجوں کے منظم انخلاء کی راہ ہموار ہو گی۔