افغانستان پر فیصلہ بہت جلد: اوباما

امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن کابل پہنچ گئی ہیں جہاں وہ فراڈ سے متاثر انتخابات کے بعد صدر حامد کرزئی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کریں گی۔
،تصویر کا کیپشنامریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن کابل پہنچ گئی ہیں جہاں وہ فراڈ سے متاثر انتخابات کے بعد صدر حامد کرزئی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کریں گی۔
وقت اشاعت

صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے پر پہنچنے والے ہیں کہ آیا افغانستان میں زیادہ امریکی فوجی بھیجے جائیں یا کم۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی پالیسی کا اعلان جلد کریں گے۔

صدر اوباما نے چین میں سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی نئی حکمتِ عملی میں افغان جنگ کے اختتام پر زور ہوگا۔

افغانستان میں امریکی فوج کے اعلیٰ ترین کمانڈر جنرل سٹینلے میکرسٹل چاہتے ہیں کہ امریکہ سے مزید چالیس ہزار کے قریب فوجی افغانستان بھیجے جائیں تا کہ وہ طالبان اور القاعدہ کے خلاف جنگ جیتی جا سکے۔

ادھر امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن کابل پہنچ گئی ہیں جہاں وہ فراڈ سے متاثر انتخابات کے بعد صدر حامد کرزئی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کریں گی۔

ان کا افغانستان کا یہ دورہ اس بات کا عکاس ہے کہ امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادیوں کے پاس سوائے اس کے کوئی راستہ نہیں کہ وہ صدر کرزئی کے ساتھ مل کر کام کریں۔

بی بی سی کی نامہ نگار کم غطاس کہتی ہیں کہ صدر اوباما اور ہیلری کلنٹن دونوں نےاپنے عوامی بیانات میں افغانستان میں کرپشن سے جنگ کی ضرورت کی بات کی ہے۔

ہیلری کلنٹن نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان معاملات کو حل نہ کیا گی تو افغانستان میں سویلین امداد جاری نہیں رہے گی۔اور بدھ کو جب امریکی وزیرِ خارجہ صدر کرزئی کے ساتھ رات کا کھانا کھائیں گی تو وہ پھر اس بات پر زور دیں گی۔

صدر اوباما کا کہنا ہے کہ وہ امریکی عوام پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان کے پاس نئی حکمتِ عملی اختیار کرنے کے دلائل کیا ہیں اور اس کی لاگت کیا ہوگی۔

’امریکی عوام کو واضح طور پر یہ معلوم ہو جائے گا کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور ہم کس طرح سے کامیاب ہوں گے۔ اس پر ہمارا کیا کچھ صرف ہوگا، ہمارے جوانوں کے کندھوں پر کتنا بوجھ پڑے گا اور سب سے اہم یہ کہ اس جنگ کا اختتام کیسے ہوگا۔‘