گوانتانامو کی بندش میں تاخیر کا اعتراف

وقت اشاعت

امریکی صدر براک اوباما نے پہلی مرتبہ اعتراف کیا ہے کہ خلیج گوانتانامو میں قائم قیدخانہ ان کی دی ہوئی ڈیڈ لائن کے مطابق جنوری 2010 تک بند نہیں ہو سکتا۔

مسٹر اوباما نے یہ اعتراف اپنے ایشیاء کے دورے کے دوران امریکی ٹی وی چینلوں کو دیئے گئے انٹرویوز میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات پر مایوسی نہیں ہے کہ ڈیڈلائن پوری نہیں ہو رہی۔ ان کے مطابق انہیں معلوم تھا کہ ایسا کرنا بہت مشکل ہو گا۔

امریکی حکام اس بات کا جائزہ لینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حراستی مرکز میں ابھی تک قید دو سو پندرہ قیدیوں کا کیا کیا جائے۔

مسٹر اوباما کے بیان سے پہلے ہی وسیع پیمانے پر یہ بحث چل رہی تھی کہ یہ ڈیڈ لائن پوری نہیں ہو سکے گی کیونکہ انتظامیہ اس مخمسے کا شکار ہے کہ ان قیدیوں کا کیا کیا جائے جنہیں نہ تو آزاد کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ان پر امریکی عدالتوں میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے قید خانے کی بندش کے لیے خاص طور پر کوئی نئی ڈیڈ لائن نہیں دی لیکن یہ کہا کہ کام شاید سن دو ہزار دس میں ہی مکمل ہو جائے گا۔

انہوں نے امریکی ٹی وی چینل این بی سی کو بتایا کہ ’ہمارے پاس ایک خاص ڈیڈ لائن تھی جو پوری نہیں ہو سکی۔‘

انہوں نے ایک اور ٹی چینل فاکس نیوز کو بتایا کہ ایسا کرنا سیاسی طور پر بھی مشکل تھا کیونکہ لوگوں کے اس بارے میں جائز خدشات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو اتنے سالوں تک یہ بتایا گیا کہ دہشت گردوں کو باہر رکھنے کے لیے گوانتانامو کا وجود ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کے قید خانے کی بندش تیکنیکی طور پر بھی مشکل تھی اور اس کا بڑی حد تک انحصار کانگریس کے تعاون پر بھی تھا۔

خلیج گوانتانامو میں قائم حراستی کو بند کرنے کے بارے میں اعلان صدر اوباما کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کیے جانے والے پہلے بیانوں میں سے ایک تھا۔

انہوں نے بائیس جنوری کو عہدہِ صدارت سنبھالنے کے دو روز بعد ہی حراستی مرکز کو ایک سال کے اندر بند کرنے کی ڈیڈ لائن دے دی تھی۔

اوباما انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ کچھ قیدیوں کے خلاف امریکی عدالتوں میں مقدمے چلائے گی جبکہ خطرہ نہ سمجھے جانے والے قیدیوں کو یا تو ان کے ملکوں کو بھیج دیا جائے گا یا پھر کسی اور ملک میں منتقل کر دیا جائے گا۔

جن افراد کو محض مقدمہ چلانے کے لیے امریکہ لایا جائے گا مقدمے کے بعد ان افراد کو امریکہ میں رہنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ سزا پانے والوں کو امریکی جیلوں میں نہیں رکھا جائے گا اور بری ہونے والوں کو بھی امریکہ میں رکنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

اس سلسلے میں امریکی سینیٹ ایک بِل پہلے ہی منظور کر چکی ہے۔