مذاکرات دہشت گردی سے مشروط ہیں

بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے امریکہ کے دورے پر روانہ ہونے سے قبل امریکی جریدے نیوز ویک کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان سے دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کی واحد شرط یہ ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین بھارت کے خلاف دہشت گردی کے لیے نہ استعمال ہونے دے۔
من موہن سنگھ نے سابق صدر مشرف کے دورے میں پاکستان سے ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے ایک سوال پر کہا کہ صدر مشرف نے بھی ہمیں یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ پاکستان کی سرزمین کو بھارت کے خلاف دہشت گردی میں استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا اور یہ ہی یقین دہانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے شرم الشیخ میں ملاقات کے دوران کرائی۔
بھارتی وزیر اعظم نے کہا ’اگر پاکستان اپنے ان وعدوں کو پورا کرتا ہے تو ہم تمام حل طلب مسائل پر بات کرنے کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس جا سکتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ تمام معاملات کو پرامن طریقےسے دو طرفہ بہ معنی مذاکرات سے حل کرنے کے اپنے وعدوں کا پابند ہے۔
ممبئی حملوں کے بارے میں ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ پاکستان نے کچھ اقدامات تو کیئے ہیں لیکن یہ کافی نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ لشکرِ طیبہ اب جماعت الداعوۃ کے نام سے متحرک ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تنظیم بھارت پر حملوں میں ملوث ہے اور پاکستان کو ان کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے چاہیں تاکہ وہ اس طرح کی کارروائیاں نہ کر سکیں۔
ایک اور سوال کے جواب میں کہ کیا ممبئی کی طرز پر انھیں مزید دہشت گردانہ حملوں کا خطرہ ہے تو من موہن سنگھ نے کہا کہ انھیں روزآنہ اس طرح کی انٹیلیجنس رپورٹ دی جاتی ہیں کہ پاکستان میں دہشت گرد بھارت پر حملوں کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
افغانستان میں امریکہ کی موجودگی پر پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں من موہن سنگھ نے کہا کہ وہ خلوص دل سے امید کرتے ہیں کہ امریکہ اور عالمی طاقتیں افغانستان میں موجود رہیں۔ انھوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کی فتح پوری دنیا اور خاص طور پر جنوب مشرقی ایشیاء، وسطی ایشیاء اور مشرق وسطیٰ کے لیے تباہ کن ثابت ہو گی۔
انھوں نے کہا کہ انیس سو اسی کی دہائی میں مذہبی انتہا پسندی کو ہوا دے کر سویت یونین کو ختم کیا گیا۔ من موہن سنگھ نے کہا کہ وہ عناصر جنھوں نے سویت یونین کو توڑا تھا اگر امریکہ کو شکست دینے میں کامیاب ہو گئے تو انھیں مزید حوصلہ ملے گا اور یہ دنیا کہ لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
من موہن سنگھ سے جب پوچھا گیا کہ پاکستان کی موجودہ صورت حال کو کس طرح دیکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان کی صورت حال کے بارے میں تشویش کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا بھارت کو ایک طویل عرصے سے پاکستان سے ہونے والی دہشت گردی کا سامنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر القاعدہ یا طالبان جو کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں تک محدود تھے ملک کے باقی حصوں میں بھی پھیل جاتے ہیں تو اس سے بھارت کی سکیورٹی کو شدید خطرہ لاحق ہو جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ وہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ پاکستان میں دہشت گردی اتنی بڑھ جائے کہ پاکستان کی حکومت بالکل بے اثر ہو کر رہ جائے۔ انھوں نے کہا کہ وہ پاکستان میں جمہوریت دیکھنا چاہتے ہیں لیکن پاکستان کے کئی حصے القاعدہ اور طالبان کی گرفت میں ہیں۔
پاکستان کی طرف طالبان اور القاعدہ کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں پر ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے امریکہ اور پاکستان کی سوچ میں بہت فرق ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان پر اپنا اثرورسوخ قیام کرنا چاہتا ہے اور وہ چاہیں گے امریکہ جلد افغانستان سے نکل جائے۔
انھوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری افغانستان میں موجود رہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت افغانستان کی تعمیر نو اور ترقی کے لیے ایک اعشاریہ دو ارب ڈالر مہیا کر چکے ہیں۔
ان سے جب پوچھا گیا کہ وہ کیا سمجھتے ہیں کہ افغانستان سے امریکہ کے نکل جانے کے بعد کیا ہو گا تو انھوں نے کہا کہ وہ کوئی ماہرِ نجوم تو نہیں لیکن یہ بہت ہی پریشان کن صورت حال ہو گی۔ اس سوال پر کہ کیا ایسی صورت میں افغانستان میں خانہ جنگی ہو سکتی ہے تو انھوں نے کہا کہ اس کا خطرہ موجود ہے۔
انھوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں امریکہ پاکستان پر اپنا اثر رسوخ استعمال کرکے اسے بھارت کے خلاف دہشت گردی کو ختم کرنے پر آمادہ کرے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کو بھارت سے خوف زدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ ماضی میں بھی وہ کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے لوگوں کا مستقبل ایک ہے۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کو غربت، جہالت اور بیماری کے خلاف جنگ کرنی چاہیے۔
من موہن سنگھ نے کہا کہ یہ ایک المیہ ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کو ایک پالیسی کی طرح اپنا لیا ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متقی سے ان کی حال ہی ملاقات ہوئی ہے اور ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران صدر اوباما کی طرف سے موصول ہونے والے پیغامات کے بارے میں خاصے پر امید ہیں۔ انھوں نے کہا ایرانی وزیر اعظم نے انھیں جو بتایا ہے اس سے انھیں ایک امید ہوئی ہے۔
من موہن سنگھ سے جب پوچھا گیا کہ وہ کیا چاہتے کہ ایران اپنا جوہری پروگرام بند کر دے تو انہوں نے کہا کہ ایران ایٹمی عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدہ پر دستخط کر چکا ہے۔ انھوں نے کہا اس پر دستخط کرنے کے حوالے سے ایران کو پرامن ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کا استحقاق حاصل ہے۔ اس طرح ایران پر کچھ پابندیاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ انہوں کہا وہ سمجھتے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کا حق حاصل نہیں ہے۔
اسی بارے میں ایک اور سوال کے جواب میں من موہن سنگھ نے کہا کہ ایٹمی عدم پھلاؤ کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کے سربراہ سے ان کی کچھ ہفتے قبل ملاقات ہوئی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔



















