سری لنکن اور افغان لڑائی

آسٹریلیا میں جزیرہ کرِسمس پر پناہ کے لیے آنے والے تارکین وطن کے مرکز میں افغان اور سری لنکن شہریوں کے درمیان لڑائی ہوئی ہے جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
حکام کو تقریباً ایک سو پچاس کے قریب افراد میں لڑائی ختم کروانے میں تیس منٹ سے زیادہ وقت لگا۔ ان میں سے چالیس لوگ زخمی ہیں۔
مرکز پہلے ہی پناہ کے لیے آنے والوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ سری لنکا سے کشتیوں کے ذریعے آتے ہیں۔
آسٹریلیا مرکز میں بستروں کی تعداد بارہ سو سے بڑھا کر دو ہزار کرنے کے بارے میں غور کر رہا ہے۔
مرکز میں لڑائی مردوں کے حصے میں ہوئی جس میں لوگوں نے ایک دوسرے کے خلاف درختوں کی ٹہنیاں، سنوکر کی سوٹیاں اور جھاڑو تک استعمال کیے۔
زخمی ہونے والے تین افراد کو بذریعہ جہاز علاج کے لیے پرتھ لے جایا گیا جبکہ باقی سینتیس افراد کا جزیرے پر ہی علاج کیا گیا۔
حکام لڑائی کی وجہ جاننے کے لیے تفتیش کر رہے ہیں۔ دریں اثناء افغانوں اور سری لنکنوں کو الگ الگ رکھا جا رہا ہے۔ جزیرے کرسمس پر ایک ہزار لوگوں کی گنجائش ہے جنہیں پناہ کے لیے ان کی درخواستوں پر فیصلے تک یہاں رکھا جاتا ہے۔
حالیہ مہینوں میں آسٹریلیا پناہ کے لیے پہنچنے والوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ سڈنی میں بی بی سی کے نامہ نگار فِل مرسر کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا میں حزب اختلاف کی جماعتیں حکومت پر تنقید کر رہی ہیں کہ اس کا اپنی سرحدوں پر کنٹرول ختم ہو گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وزیر اعظم کیون رڈ نے انسانی سمگلروں کے خلاف سخت اقدامات کا وعدہ کیا ہے لیکن انہوں نے کہا کہ پناہ کے لیے آنے والوں کی درخواستوں کا انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر فیصلہ کیا جائے گا۔



















