اسرائیلی فوجی کی رہائی میں’اہم پیش رفت‘

اسرائیلی صدر شمعون پئیرز نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوجیگلعاد شالیط کی رہائی کے سلسلے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
اسرائیلی صدر نے یہ بات قاہرہ میں اپنے مصر ہم منصب حسنی مبارک کے ساتھ ایک میٹنگ کے بعد کہی ہے۔ اسرائیلی فوجی گلعاد شالیط کو سن دو ہزار چھ میں فلسطینی شدت پسندوں نے اغواء کر لیا تھا۔
بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی گلعاد شالیط کے اغواء کیے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے معاملے پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا ہے لیکن اب لگتا ہے کہ دونوں ممالک کسے نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔
شمعون پئیرز نےصحافیوں سے کہا شالیط کے معاملے میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن اس بات چیت کی تفصیلات ابھی پوشیدہ ہی رکھی جائیں۔
شمعون پئیرز نے یہ بات ایک ایسے وقت میں کہی ہے کہ جب العریبیہ ٹی وی چینل نے ایک سینئر حماس رہنما کے حوالے سے کہا تھا کہ شالیط کی رہائی پر معاہدے پر فیصلہ جلد ہوگا اور ہوسکتا ہے عیدالاضحٰی کے موقع پر یہ معاہدہ ہوجائے۔
ٹی وی چینل پر یہ بھی کہا گیا ہے شام کے اسلامی گروپ جلد ہی قیدیوں کی اس نئی فہرست پر غور کریں گے جو اسرائیل نے مصر کو دی ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار ٹم فرانک کا کہنا ہے کہ شمعون پئیرز کے بیان میں کیا کہا گیا ہے یہ اہم نہیں ہے بلکہ یہ اہم ہے کہ انہوں نے اس بارے میں بیان دیا۔
اسرائیل کے سینئر اہلکار ان مذاکرات کے بارے میں اطلاع دینے سےگریزاں ہیں۔ فوجی حکام نے شالیط کی رہائی سے متعلق رپورٹس کو سینسر کیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ رپورٹ لیک ہونے سے پہلے ہی نقصان ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فاکس نیوز کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے شالیط کی رہائی کے بدلے ایک ہزار قیدیوں کو رہا کرنے کی بات کہی ہے۔ ان میں 450 قیدی ایسے ہیں جن کا مطالبہ حماس نے کیا تھا اورباقی وہ ہیں جو قتل کے الزام میں مجرم ٹھہرائے جا چکے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس سلسلے میں پہلے مختلف افواہیں تھیں لیکن حالیہ دنوں میں یہ خبر پھیلی ہوئی ہے کہ پچھلے ایک برس میں ایک جرمن کی جانب سے مذاکرات کے لیے مداخلت کی جا رہی ہے۔
اکتوبر ميں پہلی مرتبہ حماس نے یرغمال بنائے ہوئے افراد کا ایک ویڈیو جاری کیا تھا۔ چودہ ستمبر کے اس ویڈیو میں تئیس سالہ شالیط کہہ رہے تھے کہ وہ ' جسمانی طور پر صحت مند ہیں اور انہوں نے یہ کہا تھا کہ ال قاصم مجاہدین کے جن لوگوں نے انہیں یرغمال بنایا ہے انکا رویہ بالکل درست ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس وڈیو کی ریلیز سے ان کی رہائی کا راستہ کھل گیا ہے۔
اسرائیل نے سکیورٹی کے خدشات کے سبب تقریباً دو ہزار فلسطینیوں کو جیل میں قید کر رکھا ہے۔ اس وجہ سے بھی اسرائیل اور فلسطین کے رشتوں میں کافی کڑواہٹ پیدا ہوئی ہے۔
اس مہینے میں حماس کے بعض رکن پارلیمان کو چالیس مہینے حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔ ابھی بھی حماس کے پندرہ اور فتح کے دو رکن پارلیمان اسرائیل کی حراست میں ہیں۔



















