بنگلہ دیش: سرحدی محافظوں کا ٹرائل شروع

بنگلہ دیش میں رواں سال فروری میں ہونے والی بغاوت میں حصہ لینے کے الزام میں سرحدی محافظوں کے خلاف فوجی عدالت میں تحقیقات شروع ہو گئی ہیں۔
بدھ کو بنگلہ دیش رائفلز کے چیف کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ابتدائی مرحلے میں نو سرحدی گارڈز کے ٹرائل کا آغاز کیا ہے۔ اس کارروائی میں مجموعی طور پر ملک بھر سے چار ہزار کے قریب بارڈر سکیورٹی گارڈز کا ٹرائل کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ آنے والے دنوں میں اس بغاوت کے دوران قتل، ریپ اور لوٹ مار کے الزام میں دیگر سینکڑوں افراد کے خلاف سویلین کورٹس میں عدالتی کارروائی کی جائے گی۔
بنگلہ دیش میں سرحدی محافظوں (بارڈر سکیورٹی گارڈز) نے مبینہ طور پر کم تنخواہ اور نامناسب حالات کی وجہ سے فروری میں بغاوت کر دی تھی جس میں درجنوں آرمی آفیسرز سمیت چوہتر افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
ڈھاکا سے بی بی سی کے نامہ نگار مارک ڈومٹ کے مطابق ٹرائل میں بنگہ دیش کی عوام خصوصی دلچسپی لے رہی ہے جو یہ جاننا چاہتے ہیں باغیوں کو کس نے اکسایا تھا۔ اس بغاوت کے بارے میں ابھی تک بہت ساری باتیں ایک معمہ بنئی ہوئی ہیں۔
بغاوت کے دوران سرحدی محافظوں نے کہا تھا کہ فوجی افسران کی زیادہ تنخواہ اور بدعنوانی کی وجہ سے خوش نہیں ہیں۔لیکن حکومت نے ان پر الزام لگایا ہے کہ وہ کسی بڑی سازش کا حصہ بنے تھے۔
دوسری جانب اس قسم کے الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں کہ درجنوں باغی تحقیقات کے دوران کیے جانے والے تشدد کی وجہ ہلاک ہو گئے ہیں۔















