مسز اوباما کی متنازع تصویر

انٹر نیٹ کے بڑے سرچ انجن گوگل نے امریکی صدر باراک اوباما اور ان کی اہلیہ مشیل کی ایک نسلی تعصب کو ابھارنے والی تصویر پر معذرت کی ہے لیکن اس نے اپنی سائٹ سے اس تصویر کو ہٹایا نہیں ہے۔
جب انٹرنیٹ کے صارفین مشیل اوباما کی تصویر تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ تصویر سامنے آتی ہے جو بنائی گئی یا جعلی تصویر ہے ۔
اس تصویر کو اس عبارت کے ساتھ شائع کیا گیا ہے کہ ’کبھی کبھار ہماری سرچ کچھ ناگوار نتائج بھی ڈھونڈ لاتی ہے، ہم اس سے اتفاق کرتے ہیں۔‘
.وائٹ ہاؤس نے اس تصویر پر اپنا تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔
گوگل کا کہنا ہے کہ وہ صرف اس بنیاد پر کسی تصویر یا تحریر کو نہیں ہٹاتی کہ اس کے بارے میں اعتراضاف کیے جا رہے ہیں یا یہ مقبول نہیں ہے۔ گوگل جس کا دفتر امریکی ریاست کیلیفورنیہ میں قائم ہے کا کہنا ہے کہ اگر کسی قانون کے تحت اسے کوئی چیز اپنی سائٹس پر سے ہٹانی پڑی تو وہ ایسا ضرور کریں گے۔
گوگل کے ترجمان سکاٹ رابن نے یہ نہیں بتایا کہ کس طرح مشیل اوباما کی یہ تصویر ان کی تصاویر کی فہرست میں پہلے نمبر پر آئی۔
مشہور صحافی ڈیوڈ وائز نے بی بی سی کو بتایا کہ گوگل کی فہرست میں کوئی تصویر مقبولیت کی بنیاد پر سرفہرست آتی ہے نہ کہ کسی رینکنگ سسٹم کی بنیاد پر۔
انہوں نے کہا کہ اگر وائٹ ہاؤس گوگل سے کہے کہ وہ امریکہ کی خاتون اول کی ایسی کوئی تصویر قانون کے تحت شائع نہیں کر سکتے جس میں انہیں بندریا کی شکل میں دکھایا گیا ہو تو وہ یقیناً یہ تصویر سائٹ سے ہٹا لیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم یہ بہت ہی پیچیدہ مسئلہ ہو گا کہ کونسی تصویر قابل اعتراض ہے اور کونسی اس زمرے میں نہیں آتی۔ ایک مرتبہ امریکی سپریم کورٹ نے کہا کہ ’ پرونوگرافی کیا ہوتی ہے، ہم اس کی تشریح نہیں کر سکتے لیکن ہم دیکھ کر بتا سکتے ہیں کہ یہ کیا ہوتی ہے۔‘



















