مبینہ ’نازی گارڈ‘ پر مقدمہ شروع

جرمنی کے شہر میونخ میں ایک مبینہ نازی گارڈ پر مقدمہ شروع ہوگیا ہے جس پر الزام ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران وہ 28 ہزار یہودیوں کے قتل میں شریک تھا۔
نواسی سالہ جان ڈیمیان یُک کو مئی میں امریکہ نے جرمنیکے حوالے کیا تھا۔ پیر کے روز وہ مقدمے کی سماعت کے لیے ایمبیولنس کے ذریعے پہنچے اور ان کو عدالت میں وِیل چیر میں لایا گیا۔
جان ڈیمان یُک نے اس الزام سے انکار کیا ہے کہ وہ نازی قبضے کے وقت پولینڈ میں سوبیبور کیمپ میں گارڈ رہے تھے۔
اگر ان کو اس مقدمے میں قصوروار پایا جاتا ہے تو ان کو پندرہ سال تک کی قید کی سزا ہو سکتی ہے۔
ڈیمیان یُک کے وکیلوں نے بتایا ہے کہ وہ مقدمے کے دروان کچھ نہیں بولیں گے اور سوبیبور کیمپ میں گارڈ ہونے کے الزام کی نہ تصدیق اور نہ ہی تردید کریں گے۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ ڈیمیان یُک نے اس کیمپ میں گارڈ کی حیثیت میں ہزاروں یہودی مرد، عورتوں اور بچوں کو گیس چیمبرز میں دھکیل کر موت کے گھاٹ اتارا تھا۔
یہ دوسری مرتبہ ہے کہ ڈیمیان یُک پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ بیس سال پہلے ان پراسرائیل میں مقدمہ چلایا گیا تھا جس میں یہ کہا گیا تھا کہ وہ ’آیئون دا ٹیریبل‘ کہلانے والے ایک بدنام گارڈ تھے۔ اس مقمدے میں انہیں قصوروار پایا گیا اور سزائے موت سنائی گئی تاہم بعد میں اسرائیل کی اعلی عدالت نے بعد میں یہ فیصلہ اس وقت ختم کر دیا تھا جب ایک اور شخص کے بارے میں معلوم ہوا جو غالباً وہ بدنام گارّ تھا۔
ڈیمیان یُک یوکرین میں پیدا ہوئے تھے اور نازی فوج نے انہیں اس وقت گرفتار کیا جب وہ روسی فوج کے لیے لڑ رہے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ پولینڈ کے سوبیبور کیمپ میں نہیں رہے۔ وہ انیس سو باون سے امریکہ میں مقیم تھے لیکن انیس سو ستتر میں ان پر جنگی جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات لگے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقدمات کے دوران جب یہ ثابت ہوا کہ وہ نازی کیمپوں میں کام کر چکے تھے تو ان کی امریکی شہریت ان سے چھین لی گئی۔
ان کو امریکہ نے اسرائیل کے حوالے کیا تھا اور بعد میں انہیں یوکرین واپس بھیج دیا گیا تھا۔ اس سال ان کو جرمنی کے حکام کے حوالے کیا گیا۔



















