تمل پناہ گزینوں کو نقل و حرکت کی اجازت

سری لنکا کے حکام نے کہا ہے کہ ملک کے شمالی علاقے میں واقع تمل پناہ گزینوں کے خصوصی کیمپوں کو کھول دیا گیا ہے۔
رواں سال تمل ٹائیگرز کے خلاف جنگ کے اختتام پر قائم کیے جانے والے وسیع کیمپوں کے کھلنے کے بعد ان میں زبردستی محصور کیے گئے تمل شہریوں کو پہلی بار نقل و حرکت کی زیادہ آزادی حاصل ہو سکے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ کیمپ ڈی ویلرز میں رہنے والے تمل باشندے حکام کے پاس ضروری معلومات کا اندراج کروانے کے بعد کیمپ چھوڑ سکتے ہیں۔
شمالی سری لنکا میں جنگ کی وجہ سے ہونے والی تباہی اور علاقے میں بارودی سرنگوں کی وجہ سےکچھ افراد کیمپوں میں ہی رہنا چاہتے ہیں۔
تمل باشندوں کے سب سے بڑے کیمپ مینک فام کے انچارج میجر جنرل کمل گونارتنے نے بی بی سی ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کیمپ کو کھول دیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ امید کر رہے ہیں کیمپ کو لوگوں کی ایک بڑی تعداد چھوڑنا چاہتی ہے لیکن اس موقع پر حالات معمول کے مطابق ہیں اور لوگوں کا رویہ بھی ٹھیک ہے۔
کیمپ چھوڑے سے پہلے ہر ایک شخص اور خاندان حکام کی جانب سے دیے جانے والے فام کی دو کاپیاں پرُ کر رہے ہیں جن میں سے ایک حکام کے پاس رہے گی تاکہ ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔
میجرل جنرل کمل کے مطابق مستقل طور پر واپس جانے والے افراد جس جگہ بھی سکونت اختیار کریں گے ان پر نظر رکھی جا سکے گی۔
کیمپ کے اندر کام کرنے والے امدادی کارکنوں نے کیمپ کو ایک کھلی جیل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیمپ کے اندر رہنے کے حوالے سے تمل باشندوں کے پاس کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکومت کا کہنا ہے اب معاملات تبدیل ہو رہے ہیں اور کیمپ چھوڑے والے افراد پر کوئی پابندی نہیں ہے کہ وہ کتنا عرصہ باہر رہتے ہیں۔ لیکن اعلیٰ حکام نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیمپ میں ایسے افراد جن کی رجسٹریشن نہیں ہوئی ہے ان کو کسی بھی جگہ جانے اور رہنے کی اجازت نہیں ہو گی تاکہ وہ لاپتہ نہ ہو جائیں۔ کیمپ میں نا مناسب حالات میں رہنے والے افراد مستقل طور پر کیمپ سے بھاگ جانا چاہتے ہیں لیکن علاقے میں سخت سکیورٹی کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں ہے۔
اگلے سال جنوری میں ہونے والے عام انتخابات سے پہلے حکومت نے کیمپوں میں رہنے والے افراد کی واپس دیہاتوں میں آباد کاری کے لیے ایک باقاعدہ منصوبہ شروع کیا ہے۔حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اگلے سال جنوری کے آخر تک تمام کیمپوں کو بند کر دیا جائے گا۔



















