’اٹلی ایک ہزار فوجی افغانستان بھیجے گا‘

اطالوی فوجی
،تصویر کا کیپشنافغانستان میں اس وقت تین ہزار دو سو اطالوی فوجی تعینات ہیں
وقت اشاعت

اطلاعات کے مطابق اٹلی افغانستان میں اپنے فوجیوں کی کل تعداد میں ایک ہزار فوجیوں کا اضافہ کرنے والا ہے۔

یہ اطلاعات امریکہ کے صدر براک اوباما کی نئی افغان پالیسی کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہیں۔

اس نئی پالیسی کے تحت امریکہ مزید تیس ہزار فوجی افغانستان بھیج رہا ہے اور وہ اپنے نیٹو اتحادیوں سے بھی افغانستان میں ان کے فوجیوں کی تعداد میں اضافے کا خواہشمند ہے۔ اس سلسلے میں نیٹو ملکوں کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس برسلز میں ہو رہا ہے جس میں سینئر امریکی اہلکاروں کی شرکت بھی متوقع ہے۔

یاد رہے کہ برطانیہ، جارجیا، پولینڈ اور سلواکیہ پہلے ہی مزید فوجی افغانستان بھیجنے کا وعدہ کر چکے ہیں جبکہ اٹلی، فرانس، جرمنی اور ڈنمارک نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا۔

جمعرات کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں اٹلی کے وزیرِ دفاع اگنازیو لا روسا نے ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک قریباً ایک ہزار اضافی فوجی افغانستان روانہ کرے گا۔

تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اطالوی وزیرِ دفاع نے اطالوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ذرائع ابلاغ میں آنے والے یہ خبریں کہ پندرہ سو فوجی(افغانستان) بھیجے جا سکتے ہی صرف ایک مفروضہ ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اعدادوشمار زیادہ سے زیادہ فوجی بھیجنے کی حد ہے جس تک ہم نہیں پہنچیں گے‘۔.

اس وقت اٹلی کے تین ہزار دو سو فوجی افغانستان میں تعینات ہیں اور منگل کو اطالوی وزیرِ خارجہ فرانکو فراٹینی نے کہا تھا کہ یہ معاملہ نیٹو کی ’ساکھ‘ کا مسئلہ ہے اور’یہ واضح ہے کہ اٹلی نیٹو کے ساتھ شروع کیے جانے والا کام ضرور انجام تک پہنچائے گا‘۔

امریکہ کی طرف سے مزید تیس ہزار فوجی افغانستان بھیجنے سے وہاں امریکی فوج کی کل تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہو جائے گی اور امریکہ نے اپنے نیٹو اتحادیوں سے کہا ہے کہ وہ بھی افغانستان میں اپنی فوج میں دس ہزار کا اضافہ کریں۔

بدھ کے روز نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا تھا کہ رکن ممالک افغانستان میں القاعدہ اور طالبان جنگجوؤں کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید فوج بھیجیں گے۔ اینڈرز فو رسموسن نے کہا تھا کہ امریکہ کو چھوڑ کر باقی نیٹو رکن ممالک پانچ ہزار اضافی فوج بھیجیں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ تعداد اس سے بھی ایک ڈیڑھ ہزار زیادہ ہو سکتی ہے۔

مسٹر رسموسن نے کہا تھا کہ نیٹو فوج اس وقت تک افغانستان میں موجود رہے گی جب تک وہاں اس کی ضرورت ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تعداد ان اڑتیس ہزار نیٹو فوجیوں کے علاوہ ہو گی جو پہلے ہی افغانستان میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو کے لیے مزید فوج بھیجنے والے ملکوں کے نام اور فوجیوں کی تعداد کا اعلان برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن کی طرف سے اٹھائیس جنوری کو لندن میں بلائی جانے والی افغان کانفرنس کے بعد کیا جائے گا۔