خودکش حملے میں تین وزیر ہلاک

فائل فوٹو، سومالی وزیر صحت
،تصویر کا کیپشنہلاک ہونے والوں میں وزیر صحت قمر عدن علی بھی شامل ہیں
وقت اشاعت

اطلاعات کے مطابق صومالیہ کے دارالحکومت موغا دیشو میں ایک تقریب کے دوران ہونے والے خودکش حملے میں کم از کم تین وزراء سمیت اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق موغا دیشو کے ایک مقامی ہوٹل میں بنادیر یونیورسٹی کے تینتالیس طالب علموں کی گریجوئیٹ تقریب جاری تھی کہ اس دوران خودکش حملہ ہو گیا۔

اطلاعات کے مطابق تقریب میں پانچ وزراء شریک تھے جن میں سے وزیر صحت قمر عدن علی، وزیر تعلیم اور ہائیر ایجوکیشن کے وزیر خودکش حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

صومالیہ میں بی بی سی کے نامہ نگار محمد اولد حسین جو اس تقریب میں شریک تھے کے مطابق انھوں نے دھماکے کے بعد زمین پر متعدد لاشوں کو پڑے دیکھا ہے۔نامہ نگار کے مطابق تقریب کے دوران ہوٹل کے میٹنگ ہال میں ایک زور دار دھماکہ ہوا جہاں اس وقت سینکڑوں کی تعداد میں لوگ گریجوئیٹ تقریب میں شریک تھے۔

انھوں نے بتایا کے ہال میں سکیورٹی کے انتظامات کم تھے جبکہ وزراء کے سکیورٹی گارڈز بھی ہال کے باہر کھڑے تھے۔اس حملے کی ذمہ داری ابھی تک کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں دو صحافی بھی شامل ہیں۔ موغا دیشو میں واقع ہوٹل شامو میں زیادہ تر غیر ملکی امدادی کارکن، صحافی اور سفارت کار ٹھہرتے ہیں۔

خیال رہے کہ صومالیہ میں 1991 سے قومی حکومت کا وجود نہیں ہے۔ اسلامی شدت پسند اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت سے لڑائی کر رہے ہیں اور انھوں نےملک کے مختلف علاقوں میں اپنی رٹ قائم کر رکھی ہے۔