اطالوی وزیر اعظم حملے میں زخمی

ابتدائی رپورٹ کے مطابق حملے میں ان کے دو دانت ٹوٹ گئے اور ان کی ناک کی ہڈی میں معمولی فریکچر ہو گیا
،تصویر کا کیپشنابتدائی رپورٹ کے مطابق حملے میں ان کے دو دانت ٹوٹ گئے اور ان کی ناک کی ہڈی میں معمولی فریکچر ہو گیا
وقت اشاعت

اٹلی کے وزیر اعظم سِلویو برلسکونی میلان میں ایک سیاسی جلسے کے بعد ہونے والے حملے میں زخمی ہو گئے ہیں۔

حملے کے دوران مسٹر برلسکونی کے چہرے پر مُکا رسید کیا گیا یا کوئی اور چیز ماری گئی جس سے وہ زمین پر گِر پڑے۔

ابتدائی رپورٹ کے مطابق حملے میں ان کے دو دانت ٹوٹ گئے اور ان کی ناک کی ہڈی میں معمولی فریکچر ہو گیا۔ ان کے ایک ہونٹ پر بھی ایک زخم آیا۔

بعد میں تہتر سالہ اطالوی وزیر اعظم نے اپنے حامیوں کو اس بات کی یقین دہانی کرانے کی کوشش کی کہ وہ ٹھیک ٹھاک ہیں۔ تاہم انہیں کم از کم ایک رات ہسپتال میں گزارنی پڑے گی۔

وزیر اعظم برلسکونی پر حملے کے سلسلے میں ایک بیالیس سالہ اطالوی شہری کو گرفتار کیا گیا ہے۔

گرفتار ہونے والے ماسیمو تارتاگلیا کے بارے میں پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ماضی میں کبھی کوئی جرم تو نہیں کیا لیکن وہ ذہنی امراض میں مبتلا رہ چکے ہیں۔

اتوار کی شام کو ہونے والے حملے کے بعد مسٹر برلسکونی اس وقت حواس باختہ دکھائی دے رہے تھے جب ان کے عملے نے انہیں سہارا دے کر ایک کار میں ڈالا۔ وہاں سے لے جائے جانے سے پہلے وہ اٹھے اور کار میں کھڑے ہوکر انہوں نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ وہ ٹھیک ٹھاک ہیں۔

مسٹر برلسکونی میلان کے ایک مرکزی چوک میں اپنے حامیوں کے درمیان موجود تھے جب ان پر حملہ کیا گیا۔

اٹلی کے ایک اخبار کے مطابق جلسے کے دوران احتجاجی مظاہرین کا ایک چھوٹا سا گروپ ان کے خلاف نعرے لگاتا رہا اور سیٹیاں بجاتا رہا۔ اس دوران ان مظاہرین اور سکیورٹی سٹاف کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

جلسے کے دوران انہوں نے اپنے حامیوں کو بتایا کہ ان کے مخالفین انہیں راکشس کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ وہ ایک راکشس ہیں۔ ’پہلی بات تو یہ ہے کہ میں خوش شکل ہوں اور دوسرے بات یہ ہے کہ میں ایک خوشگوار شخصیت کا مالک ہوں۔‘

روم میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈنکن کینیڈی کے مطابق اس حملے کے بعد مسٹر برلسکونی کی سکیورٹی کے بارے میں سوالات اٹھائے جائیں گے۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ مسٹر برلسکونی ایک سماجی مزاج رکھنے والی شخصیت ہیں جو عوام میں گھلنا ملنا چاہتے ہیں۔