سرحد پار کرنے والے امریکیوں پر مقدمہ

ایران کے وزیر خارجہ منوچہر متقی نے کہا ہے کہ عراق سے سرحد عبور کر کے ایرانی حدود میں داخل ہونے والے تینوں امریکی باشندوں پر مقدمہ چلایا جائے گا۔
انہوں نے ان افراد پر عائد الزامات کی نوعیت تو نہیں بتائی تاہم ان تینوں نوجوان امریکیوں شین باؤر، سارہ شراؤڈ اور جوش فتال کو اکتیس جولائی کوغیر قانونی طور پر ایران کی سرحد پار کرنے کے الزام میں پکڑا گیا تھا۔
منوچہر متقی نے ایک پریس کانفرنس کو بتایا کہ ’ایران میں مشتبہ عزائم کے ساتھ غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے تینوں امریکیوں سے تفتیش جاری ہے۔ ان پر عدالت میں مقدمہ چلے گا اور فیصلہ ہوگا‘۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ تینوں نوجوان جاسوسی کر رہے تھے جبکہ ان تینوں امریکیوں کے خاندان والوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
امریکی حکومت نے ایران کی طرف سے لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور ان افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ ایران میں سوِٹزرلینڈ کے سفیر کو، جو ایران اور امریکہ کے سفارتی تعلقات نہ ہونے کی وجہ سے وہاں اس کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں، ستمبر میں ان تینوں سے ملاقات کی اجازت دی گئی تھی۔
ایران میں میں بی بی سی کے نامہ نگار جان لین نے کہا کہ اس واقعے کو امریکی اشتعال انگیزی بھی قرار دے سکتے ہیں۔
تینوں گرفتار شدہ امریکی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے کے سابق طالب علم اور آپس میں دوست ہیں۔ستائیس سالہ شین باؤر فری لانس صحافی اور فوٹوگرافر ہیں اور مشرق وسطیٰ اور سوڈان میں دارفور کے تنازعے پر کام کرتے رہے ہیں۔ وہ اکتیس سالہ سارہ شراؤڈ کے ساتھ دمشق میں رہتے ہیں جو لکھاری ہیں اور پڑھاتی بھی ہیں۔ ستائیس سالہ جوش فتال بھی استاد اور ماہر ماہر ماحولیات ہیں اور گرمیوں کی چھٹیوں میں اپنے دوستوں کے پاس دمشق گئے تھے جہاں سے انہوں نے پیدل سیر کرنے کا پروگرام بنایا۔















