آیت اللہ منتظری انتقال کر گئے

اہلِ تشیع کے اہم عالم اور ایرانی حکومت کے نقاد آیت اللہ العظمٰی حسین علی منتظری قم میں انتقال کر گئے ہیں۔
ان کی عمر ستاسی برس تھی۔
آیت اللہ کے معالج نے ایران کے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ وہ ذیابیطس، دمے اور پھیپڑوں کی تکلیف میں مبتلا تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’درحقیقت آیت اللہ کو بہت سی بیماریاں تھیں‘۔
آیت اللہ منتظری انقلابِ ایران کے اہم ترین رہنماؤں میں سے تھے اور اب ان کا شمار ایران کے موجودہ صدر کے بڑے نقادوں میں ہوتا تھا۔ انہوں نے جون میں ایرانی صدارتی انتخاب کے بعد صدر احمدی نژاد کی مذمت میں فتوٰی بھی دیا تھا۔
آیت اللہ منتظری کا انتقال سنیچر کی رات ان کے گھر میں ہوا اور انہیں پیر کو قم میں معصومۂ قم کے روضے کے احاطے میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔ ان کے انتقال کی خبر عام ہوتے ہی بڑی تعداد میں لوگ ان کے گھر کے باہر جمع ہوگئے۔
ایک اطلاع کے مطابق آیت اللہ منتظری کے جنازے میں شرکت کے لیے اصفہان، نجف آباد شیراز اور دیگر شہروں سے ہزاروں افراد قم روانہ ہوگئے ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ آیت اللہ منتظری کی موت کے بعد اب حکومتی حلقوں میں یہ خدشہ سر اٹھانے لگا ہے کہ کہیں حزبِ اختلاف آیت اللہ منتظری کے جنازے کے موقع پر جلسے جلوسوں کا اہتمام نہ کر لے۔
آیت اللہ منتظری کو ایک زمانے میں امام خمینی کا جانشین مقرر کیا گیا تھا کہ لیکن سنہ 1989 میں آیت اللہ خمینی کے انتقال سے کچھ ماہ قبل ایران میں حقوقِ انسانی کی صورتحال پر دونوں علماء میں تنازعے کے بعد ان سے یہ استحقاق واپس لے لیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعد ازاں سنہ 1997 میں آیت اللہ منتظری نے امام خمینی کے جانشین آیت اللہ علی خامنہ ای کے اختیارات پر سوال اٹھایا تھا جس کے نتیجے میں نہ صرف ان کا مدرسہ بند کر دیا گیا تھا بلکہ انہیں چھ برس نظر بندی میں گزرانے پڑے تھے۔



















