ایران: تعزیتی تقریب میں’جھڑپیں‘

ایران کی حزبِ اختلاف کی ویب سائٹس کے مطابق اصفہان میں ایرانی سکیورٹی فورسز اور اپوزیشن کے حامیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔
اپوزیشن کے مطابق ان جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔
حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ یہ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب پولیس نے ان افراد کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس استعمال کی جو آیت اللہ منتظری کی یاد میں تقریب کے لیے جمع ہوئے تھے۔
خیال رہے کہ قم میں پیر کو آیت اللہ منتظری کے جنازے کے موقع پر بھی سکیورٹی فورسز اور اصلاح پسند مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملی تھیں۔. اصلاح پسندوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ آیت اللہ منتظری کے آبائی شہر نجف آباد میں بھی گزشتہ دو دن سے حالات کشیدہ ہیں۔
اپوزیشن کی حامی راہِ سبز نامی ویب سائٹ کے مطابق حزبِ اختلاف کے حمایتی اصفہان کی ایک مسجد میں جب آیت اللہ منتظری کی تعزیتی تقریب کے لیے جمع ہوئے تو وہاں سینکڑوں کی تعداد میں پولیس اور سادہ لباس میں ملبوس اہلکار موجود تھے۔
ایک اور ویب سائٹ پارلیمان نیوز کے مطابق پولیس نے پچاس سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہے۔
تہران میں بی بی سی کے نامہ نگار جان لین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اجتماعات اور مظاہرے دراصل مظاہروں کے اس سلسلے کی تیاری ہے جس کا آغاز اختتامِ ہفتہ سے متوقع ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو پہلے ہی یہ خدشہ ہے کہ آیت اللہ منتظری کے جنازے کا جلوس کہیں ملک میں حزبِ اختلاف کی جانب سے مظاہروں کے نئے سلسلے کا نقطۂ آغاز ثابت نہ ہو۔















