ریپسٹ فرار پھر گرفتار

برطانیہ میں ریپ کے مرتکب اس مجرم کو پولیس نے پھر حراست میں لے لیا ہے جو عین اس وقت فرار ہوگیا تھا جب برطانوی حکام اسے پاکستان ہائی کمیشن لائے تھے تاکہ اسے پاکستان واپس بھیجا جا سکے۔
اس سال تیس اکتوبرکو فرار ہونے والے چوالیس سالہ امتیاز حسین پاکستان ہائی کمیشن لائے جانے کے صرف نوے سیکنڈ کے اندر اندر وہاں سے فرار ہو گئے تھے۔ تاہم برطانوی پولیس نے بدھ تئیس دسمبر کو انھیں پھر گرفتار کر لیا۔
گرفتاری کے بعد انھیں لندن کے مغربی علاقے میں پولیس سٹیشن لے جایا گیا اور بعد میں برطانیہ کی بارڈر ایجنسی کے حوالے کر دیا گیا۔
پولیس امتیاز حسین کو لندن میں پاکستان ہائی کمیشن اس لیے لے کر گئی تھی کہ ان کے لیے پاکستان جانے کے لیے پاسپورٹ حاصل کیا جا سکے۔لیکن وہ مفرور ہو گئے۔
پولیس نے امتیاز کے بارے میں کہا تھا کہ ’بہت خطرناک‘ ہے اور انھیں ڈربی شائر میں دو خواتین کو ریپ کرنے کی کوشش کی پاداش میں جیل کی سزا ہوئی تھی۔
جب امتیاز فرار ہوئے تو ایک سینیئر سفارت کار نے دفترِ خارجہ اور ہوم آفس سے اس بات کی شکایت کی تھی۔
قونصل جنرل نفیس زکریہ کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ امتیاز حسین کو جب ہائی کمیشن لایا گیا تو انھیں ہتھکڑی نہیں لگی ہوئی تھی اور ان کے ہمراہ صرف ایک محافظ تھا۔
مسٹر زکریہ نے جنھوں نے امیگریشن افسر پر عدم توجہ کا الزام لگایا کہا کہ ریپسٹ اسی دروازے سے بھاگا جہاں سے ہائی کمیشن کے اندر داخل ہوا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی حکام نے بھی اس واقعہ کے بعد اس بنیاد پر ایک باضابطہ شکایت درج کرائی تھی کہ برطانوی حکام انھیں خبردار کرنے میں ناکام رہے کہ امتیاز حسین خطرناک قیدی تھا۔



















