غزہ کی مسلسل ناکے بندی کے خلاف مظاہرہ

غزہ کی سڑکوں پر، محمد اپنے کئی ساتھیوں کے ساتھ پرچم اٹھائے، بچوں کی جانب سے منعقد کیے گئے مظاہرے میں شامل ہے۔ بچوں نے یہ مظاہرہ اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی مسلسل ناکہ بندی کے خلاف کیا ہے۔ مظاہرہ اس لیے بھی اہم ہے کہ ٹھیک ایک سال پہلے اسرائیل نے غزہ پر حملے شروع کیے تھے۔ اسرائیل کے مطابق یہ حملے ان راکٹ حملوں کو روکنے کے لیے کیے گئے جو غزہ میں واقع فلسطینی شدت پسندوں کی جانب سے اسرائیل پر کیے جا رہے تھے۔ بائیس دنوں میں تقریبا چودہ سو فلسطینی ہلاک ہوئے اور غزہ کی عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو زبردست نقصان پہنچا۔
اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی کے ترجمان کرسٹوفر گننیس کے مطابق ایک برس قبل ہونے والے حملوں میں غزہ کا جو حال ہوا اس سے وہ اب تک نکل نہیں سکا۔
مسٹر گننیس کہہ رہے تھے کہ تب غزہ پر فضائی حملے کیے گئے تھے جو کئی روز تک جاری رہے لیکن بتایا گیا کہ حملوں میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا لیکن اگر ان حملوں سے غزہ ميں ہونے والی تباہی پر نظر ڈالی جائے تو لگتا یہ ہے کہ زور دار بمباری بنیادی ڈھانچے پر کی گئی تھی اور ایک برس بعد بھی غزہ میں تعمیراتی کام کاج نہیں ہو سکا ہے کیونکہ اسرائیل نے گذشتہ ایک برس ميں تعمارتی مواد لے کر آنے والے ٹرکوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔
اس کے علاوہ اقوام متحدہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے عائد پابندی کے سبب غزہ ميں محکمہ صحت بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ناکہ بندی کے سبب پیدا ہوتے ہی مرنے والے بچوں کی تعداد ميں اضافہ ہوا ہے۔ ادھر لبنان کی شیعہ مسلح تنظیم حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ نے غزہ سے ناکہ بندی ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے اور مصر سے درخواست کی ہے کہ وہ اس آہنی دیوار کی تعمیر روک دے جو غزہ کی سرحد پر اٹھائی جا رہی ہے۔
غزہ کی ناکہ بندی اس وقت سے جاری ہے جب دو ہزار سات میں حماس کو غزہ کا کنٹرول حاصل ہوا ہے۔















