یمن میں امریکہ کا تیسرا محاذ

دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں امریکہ نے افغانستان اور عراق میں جاری کارروائیوں کے علاوہ خاموشی سے یمن میں القاعدہ کے خلاف تیسرا محاذ بھی کھول لیا ہے۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق اعلیٰ حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ سی آئی اے نے ایک سال قبل بہت سے چوٹی کے خفیہ اہلکاروں کو جنہیں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں کرنے کا وسیع تجربہ حاصل ہے یمن بھیجا تھا۔
اخبار لکھتا ہے کہ اسے چند اعلیٰ فوجی اہلکاروں نے بتایا ہے کہ اسی دوران سپیشل آپریشن کمانڈوز نے خفیہ طور پر یمنی افواج کی دہشت گردی کے خلاف لڑنے کی تربیت بھی شروع کر دی تھی۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگن اگلے اٹھارہ ماہ میں یمنی افواج کو مسلح کرنے اور ان کو تربیت دینے پر سات کروڑ ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ یہ تربیت امریکی سپیشل گروپس کریں گے جن میں یمن کی افواج کے علاوہ یمن کی کوسٹ گارڈز کو بھی شامل کیا جائے گا۔
امریکی خفیہ اہلکاروں نے بھی تیئس سالہ نائجیریائی باشندے کے ان دعوؤں کی تصدیق کی ہے کہ یمن میں موجود القاعدہ کے ماہرین نے اسے تربیت دی تھی کہ وہ ڈیٹرائٹ جانے والے نارتھ ویسٹ فضائی کمپنی کے طیارے کو دھماکے سے اُڑا دے۔ اس واقعہ سے اوباما انتظامیہ کے یمن کی حکومت سے پیچیدہ تعلقات توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔
یمن ایک عرصے سے جہادی عناصر کی پناہ گاہ رہا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یمن کی حکومت کی طرف سے افغانستان میں سویت یونین کے خلاف لڑنے والے افراد کو وطن واپس آنے کی اجازت دینا تھا۔
یمن کی بندرگاہ عدن میں اکتوبر دو ہزآر میں امریکی بحری جہاز کول پر القاعدہ کے حملے میں سترہ امریکی ملاح یا ’سیلر‘ ہلاک ہو گئے تھے۔
القاعدہ کے شدت پسندوں نے گزشتہ چند برسوں میں یمن میں اپنا ٹھکانہ مضبوط کرنے پر بڑی توجہ دی ہے اور پورے خطے سے نئے افراد کو بھرتی کیا ہے۔ اسی دوران مغربی سفارت کاروں اور دوسرے اہداف پر حملوں میں بھی تیزی آئی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
وائٹ ہاؤس یمن کے صدر علی عبداللہ صالح کے ساتھ دیرپا اور مضبوط تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ انھیں اس بات پر مجبور کیا جا سکے کہ وہ اپنے ملک کے گھمبیر اندرونی مسائل کے ساتھ ساتھ القاعدہ سے تعلق رکھنے والے عناصر کے خلاف بھی کارروائیاں جاری رکھیں۔
انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ صومالیہ اور مشرقی افریقہ میں اسلامی شدت پسندوں کے زور پکڑنے سے یمن القاعدہ کا تربیتی اور کارروائیاں کرنے کا اڈہ بن جائے جو کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کے برابر ہو گا جہاں ان کے مطابق تنظیم کے اعلی ترین ارکان موجود ہیں۔
امریکی کی اندرونی سلامتی اور سرکاری امور کی کمیٹی کے چیئرمین اور امریکی ریاستی کونٹیکٹ سے آزاد سینیٹر جوزف لائبرمین کا جنھوں نے اگست میں یمن کا دورہ کیا تھا کہنا ہے کہ یمن اب لڑائی کا مرکز بن گیا ہے۔
امریکی اور یمنی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اس خصوصی تعاون کی بنیاد اس سال اس وقت رکھی گئی جب امریکہ کے علاقی کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریس نے صدر اوباما کے دہشت گردی کے خلاف مشیر جان او برینن نے یمن کے خفیہ طور پر دورے کیئے تھے۔
یمن کے صدر علی عبداللہ صالح بظاہر امریکہ اور سعودی عرب کے شدید دباؤ کے پیش نظر کھلے اور خفیہ تعاون کو بڑھانے پر رضامند ہو گئے ہیں۔ سعودی عرب سے القاعدہ کے بہت سے متحرک کارکنوں نے بھاگ کر یمن میں پناہ لے لی ہے۔
واشنگٹن میں یمن کے امور کے ماہر کرسٹوفر بوئیک کا کہنا ہے کہ یمن کے سکیورٹی کے مسائل یمن تک محدود نہیں رہیں گے۔ ان کے مطابق یہ خطے کے مسائل ہیں اور مغربی مفادات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ایک سال قبل یمن میں موجود القاعدہ کو کافی تشہیر ملی تھی جب گوانتانامو سے رہائی پانے والے القاعدہ کے رکن سعد علی الصحری سعودی عرب سے فرار ہو کر یمن پہنچ گئے تھے اور بعد میں انھیں ایک ویڈیو میں بھی دکھایا گیا تھا۔ گوانتانامو سے رہائی پانے والے اور بہت سے قیدی بھی یمن پہنچ گئے ہیں۔
یمن کے دور افتادہ علاقوں میں ہمیشہ سے لاقانونیت کا دور دورہ رہا ہے لیکن ملک میں پایا جانے والا انتشار گزشتہ دو سال سے بہت سنگیں ہو گیا ہے۔ حکومت کو ملک کے شمال مغرب میں مسلح بغاوت کا سامنا ہے جبکہ جنوب مشرق میں علیحدگی پسند تحریک زور پکڑ رہے ہے۔
یمن کے تیل کے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں اور حکومت کے مالی وسائل اتنے نہیں کہ وہ القاعدہ کے خلاف موثر کارروائی کر سکے۔
دریں اثناحال میں امریکہ کے خلاف دہشت گردی کے جتنےمنصوبے پکڑے گئے ہیں ان کی کڑیاں یمن سے جا ملتی ہیں۔
یمن میں ایک سخت گیر مولوی انوار الاولاکی کا بہت سے دہشت گردوں سے تعلق ثابت ہوا ہے جن میں ندال مالک حسن بھی شامل ہیں جو کہ امریکی فوجی میں میجر تھے اور جن پر تیرہ امریکیوں کو فورٹ ہوڈ ٹیکساس میں قتل کرنے کے الزام کا سامنا ہے۔
یمن نے القاعدہ کے خلاف اپنی کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے اور دسمبر سترہ تاریخ کو ایک کارروائی میں ساٹھ شدت پسند مارے گئے تھے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس کارروائی میں معلومات اور اسلحہ فراہم کیا تھا۔
یمن کے وزیر خارجہ ابو بکر القربی کا کہنا ہے کہ یمن نے امریکہ اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھایا ہے کیونکہ حفیہ اطلاعات کے مطابق یمن میں القاعدہ جڑ پکڑ رہی ہے۔
ابوبکر القربی نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے فضائی حملوں کا کئی ماہ پہلے منصوبہ بنایا گیا تھا لیکن ان پر القاعدہ کے ارکان کے ٹھاکانوں کے بارے میں مصدقہ اطلاعات ملنے کے بعد ہی عملدرآمد کیا گیا۔
انھوں نے کہا کہ گو امریکہ نے خفیہ معلومات کے علاوہ ضروری اسلحہ اور بارو بھی فراہم کیا تھا لیکن یہ فضائی حملے یمن کی اپنے فضائیہ نے کیئے ہیں۔
دبئی میں قائم گلف ریسرچ سینٹر کےمصطفیٰ العینی نے کہا کہ امریکہ اور سعودی عرب انتہائی مفید خفیہ معلومات مہیا کر رہے ہیں لیکن خطے کے دوسرے ملکوں نے یمن کی مدد شروع کر دی ہے اور اسے مالی وسائل بھی فراہم کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ عام خدشہ یہی تھا کہ یمن میں القاعدہ اپنے پیر مضبوط کر رہی ہے اور نئے تربیتی مراکز قائم کر رہی ہے۔ القاعدہ نے رفتہ رفتہ بہت سے علاقوں کو ’نو گو ایریا‘ میں تبدیل کر دیا تھا۔
انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور کویت بھی اس خطرے سے پوری طرح آگاہ ہیں اور یمن کو امداد مہیا کر رہے ہیں۔



















