طیارہ سازش: ’نظام کی ناکامی تھی‘

ہمیں اس واقعے سے سبق سیکھنا چاہیے اور جلد از جلد اپنے نظام میں خرابیوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے: اوباما
،تصویر کا کیپشنہمیں اس واقعے سے سبق سیکھنا چاہیے اور جلد از جلد اپنے نظام میں خرابیوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے: اوباما
وقت اشاعت

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ کرسمس پر امریکی مسافر طیارے کو دھماکے سے اڑانے کی سازش نظام کی ناکامی تھی جس کے نتیجے میں ایک انتہا پسند بارودی مواد لے کر امریکہ آنے والے جہاز پر سفر کرنے میں کامیاب ہوا۔

انہوں نے کہا کہ انٹیلیجنس اور سکیورٹی کی ناکامی کسی طور بھی قابل قبول نہیں ہے۔ ’ہمیں اس واقعے سے سبق لینا چاہیے اور اپنے نظام میں خرابیوں کو فوراً درست کرنا چاہیے۔‘

یاد رہے کہ امریکی محکمۂ انصاف نے کہا ہے کہ عمر فاروق عبدالمطلب نے ہالینڈ سے امریکہ جانے والے جہاز کو آتش گیر مادے سے اس وقت تباہ کرنے کی کوشش کی جب وہ تین سو کے قریب مسافروں اور عملے کو لے کر گزشتہ جمعہ کو ایمسٹرڈم سے ڈیٹرائٹ جا رہا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق عمر عبدالمطلب کو مشیگن کی وفاقی جیل میں رکھا گیا ہے اور اس نے گرفتاری کے فوراً بعد ایف بی آئی کے حکام کو بتایا تھا کہ اسے طیارے کو اڑانے کا سامان یمن میں القاعدہ کے لوگوں نے فراہم کیا تھا اور وہاں اس جیسے کئی لوگ ہیں جو جلد ہی حملے کریں گے۔

امریکی صدر نے دو ٹوک بیان میں کہا ہے کہ وہ ابتدائی معلومات کے حوالے سے امریکی عوام کو بتانا چاہتے ہیں کہ: ’یہ کہا جا رہا ہے کہ حملہ آور کے والد نے افریقہ میں امریکی حکام کو ان کے بیٹے کی انتہا پسندی کے حوالے سے آگاہ کیا تھا۔ اب یہ معلوم ہوا ہے کہ اس حملے سے ہفتوں پہلے یہ اطلاع انٹیلیجنس ایجنسی تک پہنچا دی گئی تھی اور اس اطلاع کو مؤثر طریقے سے آگے نہیں بڑھایا گیا اور اس شخص کو نو فلائی لسٹ میں نہیں ڈالا گیا۔‘

امریکی صدر نے مزید کہا ’ہمیں اس واقعے سے سبق سیکھنا چاہیے اور جلد از جلد اپنے نظام میں خرابیوں کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔‘

براک اوباما نے کہا کہ ’جب حکومت کو ایک انتہا پسند فرد کے بارے میں اطلاع ملتی ہے اور اس اطلاع کا تبادلہ نہیں کیا جائے اور ایک انتہا پسند بارودی مواد کے ساتھ جہاز پر سوار ہونے میں کامیاب ہو جائے جس میں تین سو افراد سوار ہیں۔ یہ ایک نطام کی ناکامی ہے۔ اور یہ بالکل قابل قبول نہیں۔‘

تاہم امریکی صدر نے محتاط انداز میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ہوم لینڈ سکیورٹی حکام کی کوششوں کی تعریف کی۔

امریکی صدر نے کہا انہوں نے متعلقہ حکام سے ابتدائی رپورٹ جمعرات کو طلب کی ہے اور ایک جامع رپورٹ چند ہفتوں میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

اس واقعے کے بارے میں براک اوباما کا یہ دو روز میں دوسرا بیان ہے۔

اس سے قبل یمن کے وزیر خارجہ ابو بکر القربی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یمن کو القاعدہ سے لڑنے کے لیے مغربی ممالک کا تعاون حاصل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں دو سو سے تین سو القاعدہ کے کارکن یمن میں موجود ہیں۔

امریکی ٹی وی چینل سی این این نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی اور یمنی حکام القاعدہ کے ممکنہ اڈوں کی نشاندہی کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں جن پر ممکنہ طور پر حملے کیے جا سکیں۔

دوسری طرف نائیجیریا کی وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ ان کو ڈر ہے کہ نائیجیریا کے باشندے کی گرفتاری کے بعد ان کے ملک کے ساتھ امتیازی سلوک نہ کیا جائے۔