سی آئی اے ایجنٹوں کی ہلاکت کی تصدیق

لیون پنیٹا
،تصویر کا کیپشنلیون پنیٹا نے ہلاک شدگان کو خراجِ تحسین پیش کیا
وقت اشاعت

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ نے خوست میں امریکی اڈے پر بدھ کی شام ہونے والے خودکش حملے میں سات ایجنٹوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

اس سے قبل یہ کہا جا رہا تھا کہ اس حملے میں آٹھ امریکی ایجنٹ ہلاک ہوئے ہیں۔

لیون پنیٹا نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملے میں چھ ایجنٹ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہلاک شدگان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ لوگ جو کل گھر سے دور مارے گئے اس مشکل کام میں مصروف تھے جسے سرانجام دینا ہمارے ملک کو دہشتگردی سے بچانے کے لیے لازم ہے‘۔

سی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ادارے کے آپریشنز کی حساس نوعیت کی وجہ سے ہلاک ہونے والے ایجنٹوں کے نام اور ان کے کام کی نوعیت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی جا سکتیں تاہم خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں خوست میں سی آئی اے کے اڈے کی سربراہ خاتون ایجنٹ بھی شامل ہیں جو تین بچوں کی والدہ تھیں۔

دو ہزار ایک کے بعد امریکی خفیہ اہلکاروں کی ایک ساتھ ہلاکت کا یہ سب سے بڑا واقعہ ہے
،تصویر کا کیپشندو ہزار ایک کے بعد امریکی خفیہ اہلکاروں کی ایک ساتھ ہلاکت کا یہ سب سے بڑا واقعہ ہے

خیال رہے کہ اس خودکش حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان فوج میں شامل ان کے ایک ساتھی نے یہ خودکش حملہ کیا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خودکش حملہ آور نے فوجی یونیفام پہن رکھا تھا اور انھوں نے فوجی اڈے کی سکیورٹی کو دھوکہ دیتے ہوئے اڈے کی ورزش گاہ میں دھماکہ کر دیا۔

یہ سنہ 1983 میں بیروت میں امریکی سفارتخانے پر بم حملے کے بعد امریکی خفیہ ایجنٹوں پر کیا جانے والا سب سے مہلک حملہ ہے جبکہ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سنہ انیس سو سینتالیس میں سی آئی اے کے قیام کے بعد سے لے کر اب تک اس کے نوے اہلکار ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ پاکستان کی سرحد سے متصل خوست کا صوبہ گزشتہ ایک برس کے دوران شدت پسندوں کا کارروائیوں کا نشانہ بنتا رہا ہے۔