امریکی فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے:عراق

بلیک واٹر
،تصویر کا کیپشنبلیک واٹر کے محافظ عراق میں سفارتکاروں کی سکیورٹی پر تعینات تھے
وقت اشاعت

عراقی حکومت نے امریکی سکیورٹی کمپنی بلیک واٹر کے پانچ اہلکاروں کے خلاف عراقی شہریوں کی ہلاکت کا مقدمہ خارج کرنے پر شدید تنقید کی ہے۔

امریکی سفارتخانے کے عملے کے لیے تعینات ان پانچ افراد پر سنہ 2007 میں بغداد میں ایک ہجوم پر فائرنگ کرنے اور سترہ لوگوں کو ہلاک کرنے کا الزام تھا۔

تاہم ایک وفاقی جج نےیہ کہہ کر ان اہلکاروں کے خلاف مقدمہ خارج کر دیا تھا کہ استغاثہ کے دلائل میں کئی تضادات ہیں۔ ڈسٹرکٹ جج ریکارڈو اربینا کا کہنا تھا کہ امریکی محکمۂ انصاف نے جو ثبوت پیش کیے ہیں اسے انہیں استعمال کرنے کا حق نہیں تھا۔ یہ متنازعہ ثبوت ان بیانات پر مشتمل ہیں جو ملزمان نے وزارتِ خارجہ کے تفتیش کاروں کو دیے تھے اور جن کے بارے میں انہیں کہا گیا تھا کہ انہیں کسی فوجداری مقدمے کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا۔

عراقی حکومت کے ترجمان علی الدباغ کا کہنا تھا کہ عراقی حکام کی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی تھی کہ ان اہلکاروں نے بنا کسی خطرے کے بے گناہ شہریوں کو قتل کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی شہریوں کے مقابلے میں عراق کے شہریوں کی جانوں کو بے مول نہ سمجھا جائے۔

اس سے قبل عراقی حکام نے امریکی عدالت کے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔ لندن میں موجود ایک عراقی سفارتکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اب امریکی وزارتِ خارجہ پر منحصر ہے کہ وہ متاثر خاندانوں کو کس طرح انصاف مہیا کرتی ہے۔.

خیال رہے کہ بغداد کے نصور سکوائر میں ہونے والی ان ہلاکتوں سے جہاں عراق اور امریکہ کے تعلقات میں تناٰؤ پیدا ہوا تھا وہیں جنگ زدہ علاقوں میں امریکی ٹھیکیدار کمپنیوں کے کام کرنے پر بھی سوال اٹھائے گئے تھے۔ اس واقعہ کے بعد امریکی حکام نے بلیک واٹر کے سکیورٹی ٹھیکے میں توسیع روک دی تھی اور کمپنی نے اپنا نام بلیک واٹر سے بدل کر زی سروسز رکھ لیا تھا۔