یمن: امریکی اور برطانوی سفارت خانے بند

امریکی سفارت خانہ
،تصویر کا کیپشنثنا میں امریکی سفارت خانے کو تین جنوری سنہ دو ہزار دس سے بند کیا جا رہا ہے: امریکی بیان
وقت اشاعت

امریکہ اور برطانیہ نے القاعدہ سے منسلک ایک گروہ کی طرف سے دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر یمن کے دارالحکومت ثنا میں اپنے سفارت خانے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی سفارت خانے نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر شائع ایک بیان میں یمن میں موجود اپنے شہریوں سے چوکس رہنے کو کہا ہے۔

سفارت خانے کو بند کرنے اور یمن میں موجود امریکی شہروں کو چوکس رہنے کا حکام امریکہ اور برطانیہ کی طرف سے یمن میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرے کو مشترکہ طور پر نمٹنے کے اعلان کے ایک دن بعد کیا گیا ہے۔

اسی دوران امریکی فوج کے مشرق وسطی میں کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹریس نے امریکی صدر کے حکم پر ثنا میں یمن کے صدر علی عبداللہ صالح سے ملاقات کرے کے انھیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مکمل تعاون کا یقین دلایا تھا۔جنرل پیٹریس نے اس ملاقات کے بعد کہا تھا کہ امریکہ یمن کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی امداد کو دگنا کر دے گا۔

امریکی سفارت خانے کی سرکاری ویب سائٹ پر کہا گیا ہے کہ ’ ثنا میں امریکی سفارت خانے کو تین جنوری سنہ دو ہزار دس سے بند کیا جا رہا ہے کیونکہ جزیرہ نما عرب میں موجود القاعدہ کے عناصر کی طرف سے یمن میں امریکی مفادات اور تنصیبات پرحملوں کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔‘

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے یمن کی افواج کو دہشت گردوں کے خلاف خفیہ معلومات فراہم کر رہے تھے۔ یمن کی افواج نے سترہ اور چوبیس دسمبر کو القاعدہ کے خلاف کارروائی میں ساٹھ کے قریب شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

یمن کے حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے القاعدہ کے عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے صوبے ابیان، بیدا اور سبوا کے لیے مزید فوج روانہ کر دی ہے۔

یمن کے ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ اقدامات القاعدہ کے عناصر کو ختم کرنے اور دہشت گردی کے گرد دائرہ تنگ کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکہ نے گزشتہ سال چھ کروڑ ستر لاکھ امریکی ڈالر کی فوجی امداد یمن کو فراہم کی تھی جبکہ پاکستان کو گیارہ کروڑ بیس لاکھ ڈالر پاکستان کو فراہم کیے گئے تھے۔

امریکی صدر براک اوباما نے یمن میں موجود القاعدہ کے عناصر کو کرسمس کے دن امریکی جہاز پر حملہ کرنے کی سازش کا الزام لگایا ہے۔القاعدہ سے منسلک ایک گروہ نے گزشتہ ہفتے اپنی ویب سائٹ میں کہا تھا کہ عمر فاروق عبدالمطلب نے ایک سال قبل یمن میں قیام کیا تھا اور اسی دوران اس نے دہشت گردی کی تربیت حاصل کی تھی۔

صدر اوباما نے اپنے ہفتہ وار خطاب میں کہا تھا کہ یمن حکومت کے ساتھ تعاون بڑھنے کو انھوں نے اپنی ترجیح بنا لیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یمن کی سکیورٹی فورسز کو تربیت اسلحہ اور خفیہ معلومات فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹ سکیں۔