’خود کش بمبار ڈبل ایجنٹ تھا‘

مبینہ خود کش بمبار نے سی آئی اے کے ایجنٹوں کو یہ کہہ کر ملاقات پر آمادہ کیا تھا کہ وہ انہیں القاعدہ قیادت کے بارے میں معلومات فراہم کریں گے
،تصویر کا کیپشنمبینہ خود کش بمبار نے سی آئی اے کے ایجنٹوں کو یہ کہہ کر ملاقات پر آمادہ کیا تھا کہ وہ انہیں القاعدہ قیادت کے بارے میں معلومات فراہم کریں گے
وقت اشاعت

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ خود کش بمبار جس نے گزشتہ بدھ کو خوست میں ایک امریکی اڈے پر سی آئی اے کے سات ایجنٹوں کو ہلاک کیا وہ اردن سے تعلق رکھنے والے ڈبل ایجنٹ تھا۔

کہا جاتا ہے وہ پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھا جسے اردن کی انٹیلی جنس سروس نے القاعدہ کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے بھرتی کیا تھا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ سی آئی اے کے اڈے پر خود کو دھماکے سے اڑانے سے پہلے وہ مشرقی افغانستان میں بھیس بدل کر کام کر رہا تھا۔

یہ سنہ 1983 میں بیروت میں امریکی سفارتخانے پر بم حملے کے بعد امریکی خفیہ ایجنٹوں پر کیا جانے والا سب سے مہلک حملہ ہے جبکہ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سنہ انیس سو سینتالیس میں سی آئی اے کے قیام کے بعد سے لے کر اب تک اس کے نوے اہلکار ڈیوٹی کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے امریکی حکومت کے دو سابق اہلکاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ مبینہ خود کش بمبار نے سی آئی اے کے ایجنٹوں کو یہ کہہ کر ملاقات پر آمادہ کیا تھا کہ وہ انہیں القاعدہ قیادت کے بارے میں معلومات فراہم کریں گے۔

ہلاک ہونے والوں میں خوست میں سی آئی اے کے اڈے کی سربراہ خاتون ایجنٹ بھی شامل ہیں
،تصویر کا کیپشنہلاک ہونے والوں میں خوست میں سی آئی اے کے اڈے کی سربراہ خاتون ایجنٹ بھی شامل ہیں

رپورٹ میں مبینہ خود کش بمبار کا نام ہمام خلیل ابوملال البلاوی بتایا گیا ہے۔ اردن کے علاقے زرقا سے تعلق رکھنے والے چھتیس سالہ البلاوی کو اردن کی خفیہ سروس نے ایک سال پہلے القاعدے سے ہمدردی رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

سی آئی اے نے ان میڈیا رپورٹوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔

امریکی ٹی وی نیٹ ورک این بی سی کے مطابق اردن کی خفیہ سروس کا خیال تھا کہ اس نے البلاوی کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے اور اسی لیے انہیں افغانستان بھیجا گیا تاکہ وہ وہاں سے القاعدہ قیادت کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ افغانستان میں ان کا خصوصی مشن یہ تھا کہ وہ القاعدہ کے نمبر دو ایمن الظواہری کو ڈھونڈ نکالیں۔

رپورٹس میں مغربی خفیہ اداروں کے اہلکاروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ہمام البلاوی نے گزشتہ ہفتے اپنے رابطہ کاروں سے کہا تھا کہ وہ خوست میں سی آئی اے کے اڈے پر اس ملاقات کا اہتمام کریں تاکہ وہ انہیں الظواہری کے بارے میں ہنگامی معلومات فراہم کر سکیں۔

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سربراہ نے خوست میں امریکی اڈے پر بدھ کی شام ہونے والے خودکش حملے میں سات ایجنٹوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔

لیون پنیٹا نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حملے میں چھ ایجنٹ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہلاک شدگان کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ لوگ جو کل گھر سے دور مارے گئے اس مشکل کام میں مصروف تھے جسے سرانجام دینا ہمارے ملک کو دہشتگردی سے بچانے کے لیے لازم ہے‘۔

سی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ادارے کے آپریشنز کی حساس نوعیت کی وجہ سے ہلاک ہونے والے ایجنٹوں کے نام اور ان کے کام کی نوعیت کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی جا سکتیں تاہم خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں خوست میں سی آئی اے کے اڈے کی سربراہ خاتون ایجنٹ بھی شامل ہیں جو تین بچوں کی والدہ تھیں۔

خیال رہے کہ اس خودکش حملے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان فوج میں شامل ان کے ایک ساتھی نے یہ خودکش حملہ کیا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ خودکش حملہ آور نے فوجی یونیفام پہن رکھا تھا اور انھوں نے فوجی اڈے کی سکیورٹی کو دھوکہ دیتے ہوئے اڈے کی ورزش گاہ میں دھماکہ کر دیا۔