بلیک واٹر ملازمین پر قتل کا مقدمہ

امریکی محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ سکیورٹی فرم بلیک واٹر کے دو ملازمین پر کابل میں دو شہریوں کے قتل کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
بلیک واٹر نامی سکیورٹی کمپنی کے دو ملازمین جسٹن کینن اور کرسٹو ڈراٹلیف نے مبینہ طور مئی 2009 میں اس وقت دو افغان شہریوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا جب ان کی گاڑی ان کی بلیک واٹر کی گاڑی سے ٹکرا گئی تھی۔ ۔
بلیک واٹر کے ملازمین کا موقف ہے کہ انہوں نے اپنے دفاع میں گولی چلائی تھی۔ ملازمین کا موقف ہے کہ جب وہ اپنے مترجم کو کابل کے ایک مضافاتی علاقے میں چھوڑنے جا رہے تھے تو ایک کار ان کی گاڑی سے ٹکرا گئی۔ جب وہ اپنے ساتھیوں کی مدد کے لیے وہاں پہنچے تو حادثے میں ملوث کار مڑ کر ان کی طرف بڑھی تو انہوں نے اپنے دفاع میں گولی چلائی تھی۔
دریں اثنا بلیک واٹر کمپنی نے عراق میں سترہ عام شہریوں کو قتل کرنے سے متعلق کئی مقدموں میں عدالت سے باہر سمجھوتہ کر لیا ہے۔ بلیک واٹر سکیورٹی کمپنی کو کئی ہرجانے کے مقدمات کا سامنا تھا۔کمپنی نے سمجھوتے کی مزید تفصیلات نہیں بتائی ہیں۔
بلیک واٹر سکیورٹی کمپنی کو ہرجانے کے مقدموں کا سامنا تھا۔ گزشتہ ہفتے امریکہ کی ایک عدالت نے بلیک واٹر کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کا حکم دیا تھا جس عراق میں شدید ردعمل دیکھنے میں آیا تھا۔عراق کی حکومت نے امریکی عدالت کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔
بلیک واٹر نامی سکیورٹی کو بش انتظامیہ نے عراق میں سفارت کاروں اور کاروباری شخصیات کی سکیورٹی کے ٹھیکے دیئے تھے۔
عراق کی حکومت نے جب بلیک واٹر کے لائنسس کے دوبارہ اجرا کو نامنظور کیا تو کمپنی نے اپنا نام بدل کر ایکس ای رکھ لیا ہے۔ ایکس ای کو افغانستان میں فوج کی مدد کے لیے لاکھوں ڈالر کے ٹھیکے مل چکے ہیں۔















