سینیٹ رہنما: مستعفی ہونے سے انکار

امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک سینیٹر ہیری ریِڈ نے صدر براک اوباما کے بارے میں نسلی امتیاز کے بیان پر مستعفی ہونے کے مطالبے کو مسترد کر دیا ہے۔
سینیٹر ہیری نےسنہ دو ہزار آٹھ میں ایک نجی محفل میں صدر براک اوباما کے بارے میں نسلی امتیاز کے حوالے سے ایک بے ذوق بیان دیا تھا جو بعد میں ایک کتاب میں شائع ہو گیا۔
انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ براک اوباما کو اس لیے قبول کر لے گا کیونکہ ان کا رنگ صاف ہے اور ان کا سیاہ فام افراد جیسا لہجہ نہیں ہے۔ سینیٹر ہیری اس حوالے سے صدر اوباما سے معافی مانگ چکے ہیں اور صدر اوباما نے انھیں معاف بھی کر دیا تھا لیکن ریپبلکن پارٹی کے کئی نمایاں رہنماؤں نے انھیں تجویز دی ہے کہ وہ مستعفی ہو جائیں۔
صدر اوباما نے سنیچر کو کہا تھا کہ ان کا اس مسئلے سے اب کچھ لینا دینا نہیں اور اب یہ باب بند ہو چکا ہے۔
شمالی امریکہ میں بی بی سی کے ایڈیٹر نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ ریپبلکن پارٹی کے چیئرمین مائیکل سٹیل نے کہا ہے کہ نسل کے بارے میں بات کرنے سے ایک تنازعہ کھڑا ہو سکتا ہے۔ ’ایسی زبان سنہ انیس سو پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں سننے کو ملتی تھی۔‘
انھوں نے یہ شکایت کی ہے کہ دو ہزار دو میں ریپبلکن پارٹی کے رہنما ٹرینٹ لوٹ نے نسلی تعصب کے حوالے سے متنازعے بیان دیا تھا تو انھیں مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا تھا۔
سینیٹر ہیری رِڈ نے گزشتہ ہفتے میں افریقن- امریکن ستاستدانوں اور رہنماوں سے ملاقاتیں اور بات چیت کی اور سیاہ فام سمیت بہت سے سینیئر ڈیموکریٹ رہنما ان کی حمایت کا اظہار کر رہے ہیں۔
سینیٹر ہیری رِیڈ ریپبکن رہنماؤں کا خاص ہدف رہے ہیں کیونکہ وہ صدر اوباما کے قانون سازی کے ایجنڈے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور اپنی آبائی ریاست نیواڈا میں دوبارہ منتخب ہونے کے لیے سخت جدوجہد کر رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















