ہیٹی میں شدید زلزلہ، ہلاکتوں کا خدشہ

ہیٹی کے ساحل کے قریب ایک طاقتور زلزلہ آیا ہے جس سے ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ او پرنس میں شدید جھٹکے محسوس کیے گئے ہیں۔خدشہ ہے کہ اس زلزلے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
اس زلزلے کی شدت رکٹر سکیل پر 7.3 بتائی جا رہی ہے اور اس کے بعد قریبی ریاستوں میں بھی سونامی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
تاہم اس زلزلے کے نو گھنٹے بعد بھی ابھی تک یہ معلوم ہونا مشکل ہے کہ اس زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد کتنی ہے۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کے جھٹکے مقامی وقت کے مطابق چار بجکر تریپن منٹ (21:53 جی ایم ٹی) پر محسوس کیے گئے۔ یہ زلزلہ پورٹ او پرنس سے پندرہ کلو میٹر دور جنوب مشرق میں آیا۔
امریکہ میں ہیٹی کے سفارتکار نے کہا ہے کہ یہ بہت بڑی ناگہانی آفت ہے جس کے نتیجے میں دارالحکومت سے تباہی اور ہلاکتوں کی خبریں آ رہی ہیں۔
ایک ہسپتال اور دیگر عمارتوں کے منہدم ہونے کی خبریں بھی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق عالمی تنظیم اقوام متحدہ کے کئی اہلکار لاپتہ ہیں۔ نیو یارک میں اقوام متحدہ کی طرف سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہیٹی میں ان کی عمارت کو بہت نقصان پہنچا ہے اور کئی اہلکار لا پتہ ہیں۔
اقوام متحدہ کے ہیٹی میں سربراہ ہیڈی انابی زلزلے کے وقت عمارت میں موجود تھے اور ابھی تک ان سے دوبارہ رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دارالحکومت میں موجود خبر رساں ادارے رائٹرز کے ایک نمائندے نے کہا ہے کہ انہوں نے عمارتوں کے ملبے کے نیچے درجنوں لاشیں اور زخمی افراد دیکھیں ہیں۔
پورٹ او پرنس میں کیتھولک ریلیف سروسز کی نمائندہ کیرول زلینکا نے امریکہ میں اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ ہزاروں افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی دعائیں ہیٹی کے عوام کے ساتھ ہیں اور امریکہ ان کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔
پورٹ او پرنس میں موجود ایک امریکی اہلکار نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ شہر دھول کی وجہ خاکستری رنگ کا ہو گیا ہے اور وہ دور سے چیخوں کی آواز سن سکتے ہیں۔
نیچی سطح پر واقع اس ملک کو پہلے بھی کئی طرح کی قدرتی آفات کا سامنا رہا ہے۔
زلزلے کے فوراً بعد ہی 5.9 اور 5.5 کی شدت کے دو مزید جھٹکے محسوس کیے گئے۔
امریکہ کے بحرالکاہل سونامی وارننگ سینٹر کا کہنا ہے کہ اس بات کا امکان ہے کہ زلزلے کی مقام کے سو کلو میٹر کے اندر کے ساحلی علاقے میں سونامی آ جائے۔
سونامی کا خطرہ ہیٹی، ڈومینیکن ریپبلک، کیونا اور باہاماس کو ہے۔
ہیٹی کے امریکہ میں سفارتکار ریمنڈ جوزف نے سی این این کو بتایا کہ انہوں نے ابھی ابھی پورٹ او پرنس میں اپنے حکومتی رفقاء سے بات کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بڑے پیمانے کی آفتِ ناگہانی ہے۔



















