تہران میں دھماکہ، جوہری ماہر ہلاک

تہران میں منگل کو ہونے والے ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں تہران یونیورسٹی کے ایک پروفیسر ہلاک ہوگئے ہیں۔
ذرائع ابلاغ کے مطابق جوہری سائنسدان پروفیسر مسعود محمدی جو کہ تہران یونیورسٹی میں جوہری طبیعات کے شعبے سے منسلک تھے، اپنے گھر کے قریب ہونے والے دھماکے میں ہلاک ہوئِے۔
شہر کے قطرینہ ضلع میں واقع پروفیسر محمد کے گھر کے قریب دھماکہ ایک موٹر سائیکل میں نصب بم سے کیا گیا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ میں مقتول پروفیسر کو انقلاب ایران کا ایک زبردست حمایتی قرار دیا گیا ہے۔

تاحال کسی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم ایرانی ذرائع ابلاغ نے اسرائیل اور امریکہ کو اس ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔سرکاری ریڈیو ایرب کے مطابق ’صیہونی اور امریکی ایجنٹوں نے‘ وہ ریموٹ کنٹرول بم نصب کیا جس کے دھماکے میں پروفیسر محمدی ہلاک ہوئے۔
ایران کے ٹی وی چینل ’پریس ٹی وی‘ پر جائے وقوعہ کے مناظر نشر کیے گئے جن میں ارگرد کی عمارتوں کے شیشے ٹوٹے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ پولیس نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
گزشتہ ماہ ایران نے سعودی عرب پر ایک ایرانی جوہری سائنسدان کو حراست میں رکھنے اور اسے امریکہ کے حوالے کرنے کا الزام لگایا تھا۔ تاہم سعودی عرب اس الزام سے انکار کرتا ہے۔
خیال رہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مغربی ممالک شکوک و شبہات رکھتے ہیں جبکہ ایران کہتا آیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















