’پاکستانیوں کی تلاشی پرمعذرت‘

رچرڈ ہالبروک، شاہ محمود قریشی
،تصویر کا کیپشنمریکیوں کے تحفظ کے لیے جامہ تلاشی ضروری ہے: رچررڈ ہالبروک
    • مصنف, ہارون رشید
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
  • وقت اشاعت

پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک نے امریکہ میں پاکستانی مسافروں کی جامہ تلاشی کی نئی شرط کا دفاع کرتے ہوئے پاکستانی قوم سے اس اقدام پر معذرت کی ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ محمود شاہ قریشی سے مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا:’آئی ایم سوری، لیکن امریکیوں کو خطرہ ہے۔ اسی لیے ان کی جان کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ تاہم ہمیں ہوم لینڈ سکیورٹی کی وزیر نے بتایا ہے کہ وہ اس کا جائزہ لے رہی ہیں۔‘

امریکی سفیر کا یہ بھی کہنا تھا کہ نئے اقدامات ہرگز امتیازی نہیں ہیں۔ ’دیگر ممالک کے مسافروں کو بھی اس صورتحال سے گزرنا ہوگا۔ اور جو ممالک شامل نہیں ان کے بھی مسافروں کو بغیر کسی تربیت کے تلاشی کے لیے چنا جاسکتا ہے۔‘

اس سے قبل پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ان کی حکومت اس اقدام سے مطمئن نہیں ہے۔ ’اس سے پاکستانی عوام متاثر ہوگی اور انہیں دہشتگردوں کی طرح دیکھا جائے گا۔ اس پر ہماری پارلیمان میں بھی ایک قرار داد منظور کرنے پر غور ہو رہا ہے۔ اس اقدام کا منفی اثر ہوسکتا ہے۔’

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج کے مذاکرات کا مقصد لندن میں اٹھائیس جنوری کو افغانستان پر ہونے والے بین الاقوامی اجلاس کے لیے تیاری کرنا ہے۔ ’افغانستان میں پائیدار امن کے لیے پاکستان سے بہتر کون کردار ادا کرسکتا ہے۔ ہم افغان پولیس اور فوج کی تربیت کے لیے اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔‘

امریکی ایلچی کی موجودگی میں اسلام آباد میں دونوں ممالک نے آج تربیلا ڈیم کی مرمت کے لیے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ امریکی امداد کے ایک منصوبے کے معاہدے پر دستخط کئے۔ امریکہ کی جانب سے امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن جبکہ پاکستان کی جانب سے اقتصادی امور ڈویژن کے سیکرٹری سبطین فضل حلیم نے دستخط کئے۔

اخباری کانفرنس میں پاکستانی اور امریکی اہلکاروں نے اعتراف کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ ایک برس میں تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس عرصے میں امریکی امداد میں اضافہ ہوا ہے۔

افغان طالبان سے مذاکرات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں رچرڈ ہالبروک کا کہنا تھا کہ ان کے اس بابت شدت پسندوں سے براہ راست کوئی رابطہ نہیں ہے۔ ’اس بابت اگر کوئی قدم اٹھانا ہے تو وہ افغان حکومت نے اٹھانا ہے۔