ہیٹی میں آفات کی تاریخ

- مصنف, نِک کیسٹر
- عہدہ, بی بی سی
- وقت اشاعت
ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ہیٹی کو عام دنیا سے زیادہ سیاسی بحرانوں، بدانتظامی، غربت اور قدرتی آفات کا سامنا رہا ہے۔ اور جیسا کہ ہیٹی کے ساتھ ماضی میں ہوتا رہا ہے جب ملک میں صورتِ حال بہتر ہونے لگتی ہے قوم کسی اور بحران کا شکار ہو جاتی ہے۔
منگل کے روز زلزلے سے تباہ ہونے سے پہلے ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ او پرنس میں صدارتی محل شہر کی سب سے زیادہ خوبصورت عمارت تھی۔
سفید رنگ کی یہ پرشکوہ عمارت اس شاندار مستقبل کی علامت تھی جو ایک کروڑ کی آبادی کے اس ملک کو کبھی بھی حاصل نہ ہو سکا۔
یہ محل پورٹ او پرنس میں بندرگاہ کے نزدیک شاں دی مارس کے علاقے میں واقع ہے۔ یہ علاقے کا مرکزی علاقہ ہے جہاں تمام انتظامی دفاتر اور کمیونٹی عمارات موجود ہیں۔ ان میں سے گرجا گھر، مرکزی ہسپتال اور اقوام متحدہ کی امن فوج کے ہیڈکوارٹرز سمیت زیادہ تر عمارتیں ہیٹی میں دو صدیوں میں آنے والے بدترین زلزلے میں تباہ ہو گئی ہیں۔
ہو سکتا ہے کہ یہاں سینکڑوں افراد ہلاک ہو گئے ہوں لیکن قریب ہی واقع غریب بستیوں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو گی جہاں ہیٹی کے ہزاروں غریب ترین لوگ لکڑی اور ٹین کے بنے ہوئے گھروں میں رہتے ہیں۔ ان گھروں میں نہ تو صاف پانی ہے اور نہ ہی سیوریج سسٹم اور بجلی کی سہولتیں دستیاب ہیں۔

ان بستیوں کے زیادہ تر رہنے والے اس لیے پورٹ او پرنس آنے پر مجبور ہوئے ہیں کہ دیہی علاقوں میں حالات اس سے بھی بدتر ہیں اور غذا کی کمی، ایڈز اور دیگر متعدی بیماریاں عام ہیں۔
جب یورپی پہلے پہل پانچ سو سال پہلے یہاں پہنچے تھے تو وہ یہاں کے جنگلات کو دیکھ کر حیران رہ گئے تھے۔ اب ان میں سے صرف تین فیصد جنگلات رہ گئے ہیں۔ باقی جنگلات کو کاٹ دیا گیا ہے۔ جنگلات سے حاصل ہونے والی لکڑی اب بھی ملک میں استعمال ہونے والے سب سے بڑا ایندھن ہے۔
شاید جنگلات کی اسی کمی کے باعث سن دو ہزار آٹھ سے طوفان سے ہونے والی تباہی کا سلسلہ شروع ہوا جس میں کم از کم ایک ہزار افراد ہلاک اور دس لاکھ کے قریب بے گھر ہوئے۔ سن دو ہزار آٹھ میں ہیٹی کا گونیوز کی علاقہ چار ہفتوں میں چار طوفانوں کا نشانہ بنا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سن دو ہزار چار میں ملک کے شمال مشرق میں طوفان آیا تھا اور تاریخی بندرگاہی شہر کیپ ہیٹین اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا۔ سن دو ہزار چار میں آنے والے طوفان میں تین ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ان قدرتی آفات کے علاوہ ہیٹی نے اپنی پوری تاریخ میں سیاسی افراتفری اور بدانتظامی کا شکار رہا ہے۔
جب سن انیس سو چھیاسی میں ’بے بی ڈوک‘ ڈیووالیئر کو اقتدار سے علیحدہ کیا گیا تھا تو ایسا دکھائی دیا کہ شاید ہیٹی میں جمہوری نظام آ جائے۔

کئی سال کی افراتفری کے بعد یہ نئی امید سن انیس سو نوے میں ایک نوجوان سابق کیتھولک پادری ژاں برٹرینڈ آرِسٹیڈ کی انتخاب کی شکل میں سامنے آئے۔
لیکن ان کے اقتدار کا چند ماہ بعد اس وقت خاتمہ ہو گیا جب فوج کے کرنیلوں نے حکومت پر قبضہ کر لیا۔ اس سے نہ صرف جمہوری نظام کا خاتمہ ہو گیا بلکہ کئی ہزاروں افراد نئی فوجی جنتا کہ ظلم و تشدد کا شکار بنے اور اس کے علاوہ ہزاروں دیگر افراد نے گھریلو ساخت کی کشتیوں میں ملک سے فرار ہونے کی کوشش کی تھی۔
سن انیس سو چورانوے میں انہیں لوگوں کی بڑی تعداد میں امریکہ آمد تھی جس نے اس وقت کے امریکی صدر بِل کلنٹن نے اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ بوٹوں والوں کو گھر بھیج دیا جائے۔
اس کے بعد ایک بار پھر ژاں برٹرینڈ آرِسٹیڈ برسراقتدار آ گئے اور ایسا دِکھائی دیا کہ سیاسی اقتدار کے ایک اور عہد کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ ان کے اور ان کے جانشین رینے پریوال کے دور میں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی امدادی اداروں کی مدد کی وجہ سے حالات ذرہ بہتر ہوئے لیکن اس کے باوجود ہیٹی مغربی خط استوا پر واقع ملکوں میں سے غریب ترین ملک رہا جہاں فی کس اوسط آمدنی دو ڈالر یومیہ سے کم ہے۔
تاہم سن دو ہزار ایک میں مسٹر آرِسٹیڈ کے دوسری مدت کے لیے انتخاب کے بعد سیاسی حالات خراب ہونا شروع ہو گئے اور تشدد میں اضافہ ہوا۔ صدر آرِسٹیڈ کو کئی ماہ کے سیاسی بحران کے بعد اقتدار چھوڑنا پڑا۔ اس کے بعد سے اقوام متحدہ کی نو ہزار امن فوج ملک میں موجود ہے اور وہاں استحکام لانے کے ساتھ ساتھ سڑکوں اور دیگر انفراسٹرکچر کی تعمیر میں مدد کر رہی ہے۔
سابق امریکی صدر بِل کلنٹن اس وقت ہیٹی کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی مندوب ہیں اور بین الاقوامی ڈونرز سے امداد حاصل کرنے کی کوششوں کی قیادت کر رہے ہیں۔
سن دو ہزار چھ میں صدر رینے پریوال کے انتخاب کے بعد حالات میں تھوڑی مگر اہم نوعیت کی بہتری آنا شروع ہوئی تھی۔ نوکری کے مواقع پیدا ہوئے ہیں، غریب آبادیوں میں تشدد میں کمی آئی ہے اور سیاحت سے متعلقہ سرگرمیوں میں بہتری کے آثار دیکھے جا رہے ہیں۔
لیکن جیسے پہلے ہوتا آ رہا ہے اب ایک بار پھر نئی امیدیں دم توڑ گئی ہیں۔ زلزے سے متاثرہ افراد کو بچانے اور ملبے کو صاف کرنے کے لیے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے سخت کوششیں درکار ہوں گی۔
سن دو ہزار آٹھ میں آنے والے زلزلے کے بعد خطاب کرتے ہوئے صدر رینے پریوال نے کہا تھا کہ ہیٹی کو طول المدتی مدد کی ضرورت ہے، اگر آپ ہمیشہ کی طرح اسے ایک نئی تباہی کا سامنا کرنے کے لیے اکیلا نہیں چھوڑا جانا۔
شاں دی مارس کے علاقے کی طرف صدارتی محل پر ان غلاموں کے مجسمے ایستادہ تھے جو اٹھارویں صدی کے اواخر میں ہیٹی کی آزادی کی جدوجہد کی علامت ہیں۔
ہیٹی کو تازہ ترین تباہی سے نبرد آزما ہونے کے لیے ایک بار پھر اسی جذبے کی ضرورت ہے۔



















