’اسرائیل نے ترکی سے معافی مانگ لی‘

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنترکی کے سفیر کو نچلی کرسی پر بٹھایا گیا
وقت اشاعت

اسرائیل نے ترک سفیر کے ساتھ تل ابیب میں ناروا سلوک برتنے پر ترکی سے معافی مانگ لی ہے۔ جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ یہ معاملہ ختم ہو گیا ہے۔

یاد رہے کہ انقرہ نے تل ابیب کی جانب سے باقاعدہ طور پر معافی نہ مانگنے کی صورت میں بدھ کی شام تک اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلانے کی دھمکی دی تھی۔

اسرائیل اور ترکی کے درمیان یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب اسرائیل نے ترکی کے ٹی وی پر دکھائی جانے والی سیریز کے خلاف جس میں اسرائیلی ایجنٹس کو بچوں کو اغواء کرتے دکھایا گیا تھا ترکی کے سفیر کو وزارت خارجہ طلب کیا گیا تھا۔

اسرائیل کے ڈپٹی وزیر خارجہ ڈینی آیالون نے ترکی کے سفیر اوگز سیلی کول کو طلب کر کے ترکی کے ٹی وی پر دکھائی جانے والی سیریز ’ویلی آف وولفز‘ پر سرزنش کی تھی۔

آیالون نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ترکی کے سفیر کو نچلی کرسی پر بٹھایا جائے اور انہوں نے میز سے ترکی کا جھنڈا بھی ہٹوا دیا تھا۔

اسرائیلی میڈیا نے ترکی کے سفیر کے فوٹیج جس میں انہیں نچلےصوفے پر جبکہ اسرائیلی افسران کو اونچی کرسیوں پر بیٹھے دکھایا گیا تھا کو بڑھا چڑھا کر دکھایا تھا۔

ترکی کے صدر عبداللہ گل نے کہا کہ ان کا سفیر اسرائیل کی جانب سے عام معافی جاری نہ کرنے کی صورت میں جمعرات کے روز پہلی پرواز سے ترکی واپس چلے جائیں گے۔

اسرائیل کےوزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے خط کے ذریعے اس مسئلے پر اپنی تشویش ظاہر کر کے دونوں ممالک کے درمیان تلخی کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ خط کے مطابق انہوں نے اسرائیلی افسران سے مستقبل میں ایسے واقعات کو دوبارہ نہ دہرائے جانے کی ہدایت کی ہے۔

ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان نے بتایا کہ انہیں اسرائیل کی جانب سے جاری کی گئی معافی موصول ہو گئی ہے لیکن ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے اسرائیل سے کہا کہ وہ اپنا رویہ درست رکھے اور خطے میں امن برقرار رکھے۔