ہیٹی:امدادی کاموں میں رکاوٹ کی وجہ کیا؟

وقت اشاعت

ہیٹی میں امدادی سامان اور ماہرین جمعرات سے پہنچنا شروع ہو گئے ہیں لیکن زلزلے کے متاثرین کا کہنا ہے کہ امدادی سامان ان تک نہیں پہنچ رہا۔ امدادی کاموں میں رکاوٹیں کیا ہیں اس کی کچھ تفصیلات مندرجہ ڈیل ہیں۔

ہوائی اڈہ

ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ او پرنس کا ہوائی اڈہ بڑی تعداد میں جہازوں کی آمد کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ اس لیے مشکل ہے کہ اس ہوائی اڈے کا کنٹرول ٹاور اور ریڈار دونوں اس زلزلے کے بعد کام نہیں کر رہے۔ امریکی فوج نے ہوائی ٹریفک کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ جمعرات کو جہاز کئی گھنٹوں تک ہوا میں چکر مارتے رہے۔

پورٹ

پورٹ او پرنس کا پورٹ کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کی وجہ سے سامان کی ترسیل ممکن نہیں ہے۔ امریکہ تین بحری جہاز بھیج رہا ہے جس پر کئی ہیلی کاپٹر ہیں اور یہ جہاز جمعہ تک پہنچ جائیں گے۔

سڑکیں

ہیٹی کے دارالحکومت کی سڑکیں عمارتوں کے ملبے اور تباہ گاڑیوں کی وجہ سے بند ہیں اور لوگ خوف کے باعث گھروں کو نہیں جا رہے ہیں۔دیگر زمینی رستے تباہ ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے امدادی تنظیمیں کی اپنے گوداموں تک رسائی نہیں ہو پا رہی ہے۔

سکیورٹی

اطلاعات کے مطابق پورٹ او پرنس سے لوگوں میں جھگڑے، لوٹ مار اور فائرنگ کی آوازیں آ رہی ہیں اور ٹرکوں کو لوٹنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ کچھ امدادی کارک کا کہنا ہے کہ ان کو رات کو کام بند کرنا پڑتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پانچ ہزار امریکی امدادی فوجی موجود ہیں اور امن و امان کی صورتحال پر قابو پانے کے لیے ان کی خدمات حاصل کی جا سکتی ہیں۔

حکومت

صدارتی محل، پارلیمان کی عمارت اور زیادہ تر حکومتی دفاتر کی عمارتیں منھدم ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے پہلے ہی سے کمزور حکومت مزید کمزور ہو گئی ہے۔ ہیٹی کی اپنی فوج نہیں ہے اور پولیس فورس بھی اس زلزلے کے بعد غیر مؤثر ہو گئی ہے۔

رابطہ

کئی امدادی تنظیموں کے دفاتر جن میں حو این کی امن فوج کو نقصان پہنچا ہے اور اہلکار ہلاک اور لاپتہ ہیں۔ بجلی اور مواصلاتی نظام میں خرابی کی وجہ سے امدادی کام متاثر ہو رہا ہے۔