حامد کرزئی کے لیے دھچکہ

افغانستان کی پارلیمان نے کابینہ کے لیے حامد کرزئی کی طرف سے کئی گئی سترہ میں سے دس نامزدگیاں مسترد کر دی ہیں۔
دو ہفتے قبل بھی ارکانِ پارلیمان نے حامد کرزئی کے وزرا کے لیے تجویز کردہ ناموں کو مسترد کر دیا تھا، جو کہ ان کے لیے ایک بڑا دھچکہ ہے۔
جن دو اہم ناموں کی منظوری دی گئی ان میں حامد کرزئی کے سابق سلامتی کے مشیر ظالمے رسول وزیرِ خارجہ کے طور پر اور حبیب اللہ غالب کو بطور وزیرِ قانون شامل کیا گیا ہیں۔
تاہم ارکانِ پارلیمان نے تین میں سے ایک خاتون کے نام کی منظوری دی ہے۔ امینہ افضلی کا نام بطور ورک اینڈ سوشل افیئر منسٹر کے نام پر منظور کیا گیا ہے۔
باقی دو خواتین کے نام جن کو پبلک ہیلتھ اور وومینز افیئر کے طور پر نامزد کیا گیا تھا، مسترد کر دیے گئے ہیں۔
کابل میں بی بی سی کے نمائندے مارک ڈمیٹ کا کہنا ہے کہ حامد کرزئی کی خواہش تھی کہ کسی طرح 28 جنوری کو لندن میں ہونے والی امدادی ممالک کی اہم کانفرنس سے پہلے وہ کابینہ ترتیب دے لیتے، لیکن ایسا کرنا اب ناممکن لگ رہا ہے۔
تاہم بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق اس دھچکے کے باوجود حامد کرزئی کے نامزد کیے گئے 24 میں سے چودہ نام منظور کیے جا چکے ہیں جن میں وزارتِ خارجہ، وزارتِ دفاع اور وزارتِ داخلہ جیسی اہم وزارتیں شامل ہیں۔
ابھی تک واضح نہیں ہے کہ صدر خالی آسامیوں کے لیے کوئی نئے نام تجویز کریں گے اور کب پارلیمان ان امیدواروں کے لیے ووٹ ڈالے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















