مظاہرین کے رہنما گولی لگنے سے زخمی
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں سرخ پوش مظاہرین کے ایک رہنما اور معطل جنرل کھٹیا سوادیپول سر پر گولی لگنے سے زخمی ہو گئے ہیں۔

جنرل کھٹیا جو سہ ڈینگ یا ریڈ کمانڈر کے نام سے مقبول ہیں کو گولی ایک اس وقت لگی جب سرخ پوش مظاہرین کےاحتجاجی کیمپ کو ختم کرنے کے لیے دی گئی مہلت ختم ہو گئی تھی۔
جنرل کھٹیا کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ جنرل کھٹیا کو اس وقت گولی ماری گئی جب وہ ایک نامہ نگار کو انٹرویو دے رہے تھے۔
جنرل کھٹیا کو فوج سے برطرف کر دیا گیا تھا۔ وہ خود کو سرخ پوش فوج کی حکمت عملی طے کرنے والے کہتے تھے۔ جنرل کھٹیا کا تعلق سرخ پوش مظاہرین کے سخت گیر گروہ سے ہے۔ سرخ پوش کے متعدد رہنماوں نے ان کے سخت موقف کی وجہ سے خود کو ان سے الگ کر لیا تھا۔
سرخ پوشوں کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کا یقین ہے کہ جنرل کو فوج کے سنائپر نے گولی ماری ہے۔ فوج کے ترجمان نے اس سے پہلے خبردار کیا تھا کہ اصل گولیوں سے مسلح شارپ شوٹر یا تیز نشانے باز علاقے میں اپنی پوزیشن سنبھال سکتے ہیں۔
حکومت کے ترجمان کا کہنا ہے کہ فوج صرف اپنے دفاع کے لیے ہتھیار استعمال کر سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ کسی غیر ضروری واقعہ کی تحقیقات کی جائے گئی۔
دریں اثنا بینکاک میں مظاہرے کے دوران ایک شخص گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا ہے جب کہ فوج نے مظاہرین کے کیمپ بند کرنے کے لیے پیش قدمی شروع کر دی ہے۔
حکام نے بینکاک میں ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا ہے جب کے اس کے دائرے کو دوسری پندرہ ریاستوں تک بڑھا دیا گیا ہے اور وہاں مظاہرین سے نمٹنے کے لیے فوج کی سطح کے اختیارات دیے گئے ہیں۔
حکومت کے ترجمان پنیتن وتانایاگرون کا کہنا ہے کہ نئے اقدامات کا مقصد مظاہرین کو دوسرے علاقوں سے بینکاک آنے سے روکنا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بینکاک میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ مفاہمت اور انتخاب کا وقت طے کرنے کے حوالے سے ہونے والی تمام بات چیت ختم ہو گئی ہے اور دارالحکومت کو مزید خون ریزی کا سامنا ہے۔
امریکہ نے بینکاک میں اپنا سفارت خانہ بند کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ برطانیہ نے بھی جمعہ کو سفارت خانہ بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
اس سے پہلے پولیس نے لوگوں سے کہا تھا کہ وہ مظاہرین کے کیمپ کے علاقے کو چھوڑ دیں، دکانوں اور کاروباری مراکز کو گرینج کے معیاری وقت کے مطابق گیارہ بجے تک کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے بند کرنے کا کہا تھا۔ اس کے علاوہ علاقے میں پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند ہے۔
ڈیڈ لائن گزرنے کے بعد گولیاں چلنے اور ایک دھماکے کی آواز سنائی دی گئی تھی۔ اس کے بعد اطلاع ملی کہ جنرل کھٹیا کو گولی مار دی گئی ہے اور انھیں زخمی حالت میں ہسپتال منقتل کر دیا گیا ہے۔
بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ دوسری بار فائرنگ کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب سو کے قریب مظاہرین نے پیش قدمی کی کوشش کی تھی۔ انھوں نے بتایا کے علاقے میں تمام سٹریٹ لائٹس بند ہیں جبکہ مظاہرین کا کیمپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔
خیال رہے کہ سابق وزیرِاعظم تھاکسن کے سرخ پوش حامیوں نے بارہ مارچ کو موجودہ وزیرِاعظم کے خلاف احتجاجی مہم شروع کی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم ابھیشت ویجاجیوا کی حکومت غیر قانونی ہے اور انہیں مستعفی ہو کر نئے انتخابات کروانے چاہیئیں۔ دس اپریل کو فوج اور مظاہرین کے درمیان ہونے والے تصادم میں انیس مظاہرین، ایک صحافی اور چار فوج ہلاک ہو گئے تھے۔



















