’برطانوی فوج کی واپسی چاہتے ہیں‘

وقت اشاعت

برطانیہ کے نو منتخب وزیر دفاع لیئم فوکس نے کہا کہ وہ افغانستان سے برطانوی فوج کی جتنی جلدی ممکن ہو سکے واپسی چاہتے ہیں۔

افغانستان میں اس وقت آٹھ ہزار بطانوی فوجی تعینات ہیں
،تصویر کا کیپشنافغانستان میں اس وقت آٹھ ہزار بطانوی فوجی تعینات ہیں

برطانیہ میں مخلوط حکومت کے قیام کے بعد پہلی بار وزیر خارجہ ولیم ہیگ افغانستان پہنچے ہیں جہاں وہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے صدر حامد کرزئی سمیت اعلیٰ امریکی اور افغان حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔

برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ کے ساتھ وزیر دفاع ڈاکٹر لیئم فوکس اور بین الاقوامی ترقی کے وزیر اینڈریو مچل بھی شامل ہیں۔

افغانستان روانگی کے بعد جہاز میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزراء نے عندیہ دیا کہ وہ افغان پالیسی میں کسی قابلِ ذکر تبدیلی کی منصوبہ بندی نہیں کر رہے ہیں۔

وزیر دفاع ڈاکٹر فوکس نے ٹائمز اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ افغان نیشنل آرمی کی تربیت میں تیزی چاہتے ہیں۔

وزیر دفاع نے کہا ’جب انھوں نے نئی ذمہ داری سنبھالی تو سب سے پہلا سوال جو انہوں نے خود سے کیا وہ یہ تھا کہ کیا ہمیں افغانستان میں ہونا چاہیے؟ کیا وہاں ہماری فوجیوں کے زندگی سے ہاتھ دھونے کا سلسلہ جاری رہے گا؟ تو اس پر جواب ’ہاں‘ میں تھا۔‘

انھوں نے کہا کہ اس وقت افغانستان میں جتنے برطانوی فوجی تعینات کیے جا سکتے تھے اس وقت وہ وہاں موجود ہیں۔

ٹائمز اخبار کے ساتھ انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ وزراء دورے کے دوران اس بات کا جائزہ لیں گے کہ افغانستان میں بین الاقوامی فوج کے سربراہ امریکی جنرل سٹینلے میکرسٹل کے تجویز کے مطابق کیا سال دو ہزار چودہ تک افغان فوج سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھال سکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ افغان فوج کو تربیت فراہم کرنے والوں سے بات کریں گے کہ کیا تربیت کے عمل کو تیز کیا جا سکتا ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ’ برطانیہ افغانستان میں بین الاقوامی پولیس کا کردار ادا نہیں کر سکتا ہے اور ان کو توجہ اندرونی سکیورٹی پر ہے۔‘ وزیر دفاع نے کہا کہ وہ دورے کے دوران ہلمند میں تعینات آٹھ ہزار برطانوی فوجیوں کو امریکی کمانڈ میں دینے کا اعلان کریں گے۔‘

وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے بات کرتے ہوئے کہا کہ تین وزراء کا ایک ساتھ افغانستان کا دورہ کرنے کا مقصد اس بات کو یقینی بانا ہے کہ ’افغانستان کے بارے میں ایک باقاعدہ مربوط پالیسی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’نئی حکومت کے طور پر متعدد چیزیں ساتھ لے کر جا رہے ہیں، ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ چیزیں کس طرح کام کر رہی ہیں، ہم فوج سے مشورہ اور افغان حکام سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے علاوہ افغانستان میں امریکی حکام سے بات کریں گے۔‘

خیال رہے کہ برطانوی وزراء ایک ایسے وقت افغانستان پہنچے ہیں جب ایک روز قبل جمعہ کو ایک برطانوی فوجی بم دھماکے میں ہلاک ہو گیا تھا۔