چین اور امریکہ: تجارتی مذاکرات کا آغاز
چین اور امریکہ کے درمیان دو دن کی اعلی سطحی مذاکرات کا پیر کو بیژنگ میں آغاز ہوگیا ہے۔

دو روزہ مذاکرات کا مقصد آئندہ برسوں میں چین اور امریکہ کے اقتصادی اور سٹریٹیجک رشتوں کو بہتر بنانا ہے۔
امریکہ کے وزیر خزانہ ٹموتھی گیتھنر اور وزیر خارجہ ہلیری وفد کے ساتھ ان مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے بینژنگ پہنچے ہیں۔
وزیر خزانہ ٹموتھی گیتھنر کا کہنا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی روکاوٹوں کو کم کرنے اور ایک متوازن معیشت کی ترقی کے لیے دونوں ملکوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
اس موقع پر چین کے نائب وزیر اعظم وانگ قشان کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات کا مقصد ایک مستحکم عالمی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
بیژنگ میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ امریکہ اور چین کے درمیان کئی معاشی اختلافات ہیں جن پر اتفاق رائے اور بات چیت ہونی ہے۔
امریکہ چین کے ساتھ ’ٹریڈ ڈیفسِٹ‘یا درآمدات اور برآمدات کی شرح میں فرق پر ناراض ہے اور چین چاہتا ہے کہ امریکہ چین کی برآمدات پر عائد پابندی کو ہٹائے۔
مذاکرات کے آغاز پر چین نے زر مبادلہ کی اپنی پالیسی میں اصلاحات کا وعدہ کیا ہے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ چین کی کرنسی پالیسی اپنے اکسپورٹرز کی حامی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان مذاکرات کے دوارن جنوبی کوریا کے جنگی جہاز پر شمالی کوریا کی جانب سے مبینہ طور پر حملے اور اس کے بعد جنوبی اور شمالی کوریا کے رشتوں میں کشیدگی کے بارے میں بھی بات چیت ہونے کی توقع ہے۔



















