لندن تیس بہترین شہروں میں شامل نہیں

وقت اشاعت

دنیا میں معیار زندگی جانچنے کے لیے پچاس بہترین شہروں کے لیے کرائے گئے ایک سرو ے میں لندن شہر انتالیسیویں نمبر پر آیا ہے۔ لندن بر طانیہ کا وہ واحد شہر تھا جو پہلے پچاس ملکوں میں آسکا ہے۔

 لندن شہر کے وسط میں دریائے ٹیمز کے کنارے لندن کا روائیتی گھنٹہ گھر اور پارلیمان
،تصویر کا کیپشن لندن شہر کے وسط میں دریائے ٹیمز کے کنارے لندن کا روائیتی گھنٹہ گھر اور پارلیمان

سروے کے لیے بہتر زندگی کے چند معیارات طے کیے گئے تھے جن میں جرائم ، سیاسی استحکام ، ہسپتال، ٹرانسپورٹ، کھانا پینا، تفریح کی سہولتیں، آب و ہوا اور شخصی آزادی شامل تھی۔

سروے کے مطابق یہ دوسرا برس ہے کہ ویانا شہر اس فہرست میں پہلے نمبر پر آیا ہے۔ اس سروے میں برطانیہ کا شہر ا برڈین تریپنویں نمبر پر جبکہ برمنگھم پچپن، گلا سگو ستاون اور بلفاسٹ تریسٹھ نمبر ہے۔

مر سر کے دو سو اکیس شہروں کے اس سروے کا مقصدحکومتوں اور بین الاقوامی کمپنیوں کی مدد کرنا ہے کہ دوسرے ملکوں میں کام کے لیے ملازمین کو بھیجتے وقت ملازمین کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔

اس فہرست میں بغداد آخری نمبرپر

بغداد سیاسی اور سلامتی کی صورتحال کے باعث دو سو اکیس شہروں کی فہسرت میں آخری نمبر
،تصویر کا کیپشنبغداد سیاسی اور سلامتی کی صورتحال کے باعث دو سو اکیس شہروں کی فہسرت میں آخری نمبر

دو سو اکیس ملکوں کی اس فہرست میں عراق کا دارالحکومت بغداد سیاسی استحکام اور سیکیورٹی کی صورتحال کے باعث آ خری درجے پر آیا ہے۔

فہرست کے انڈیکس میں یورپی شہر نمایا ں ہیں۔ جس میں سوئزز لینڈ کے دو شہر زیورچ اور جینیوا بتتریب دوسرے اور تیسرے، کینڈا کا شہر وینکور چوتھے، نیوزی لینڈ کا شہر آک لینڈ پانچویں جبکہ آسٹریلوی شہر سڈنی دسویں نمبر پر ہے۔

جرمنی کے تین شہروں میں ڈوسلڈورف، فرینکفر ٹ اور میونخ ہیں۔ جبکہ ڈ بلن چھبیسویں نمبر پر ہے۔

مرسر کے ایک ریسرچر صلاجین پارا کٹیل کہتے ہیں کہ ا یسے میں جبکہ معیشت محض ملکوں کے حد تک نہیں بلکہ عالمی رخ اختیار کرچکی ہے، روائیتی کاروباری شہروں کے بجائے سر مایہ کاری کے لیے دوسرے شہر زیادہ پر کشش حیثیت اختیار کرتے جارہے ہیں۔

حکومتیں اور بین الاقوامی کمپنیاں ملازمین کا خیال رکھیں

پاراکٹیل نے کہا کہ مشرق وسطیٰ اور ایشا میں کئی شہر عالمی منڈیوں کے طور پر ابھر رہے ہیں جس کے باعث خاصی اہم تعداد میں اہم بین الاقوامی کمپنیاں اور ان کے ملازمین ان شہروں میں منتقل ہورہے ہیں۔

ویانا اس فہرست میں دوسرے برس بھی پہلے نمبر ہے
،تصویر کا کیپشنویانا اس فہرست میں دوسرے برس بھی پہلے نمبر ہے

اس لیے سروے کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ ایسے شہروں کے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ملازمین کو وہاں منتقل کرتے وقت ان شہروں میں ممکنہ دشواریوں کا خصوصی الاؤنس ، مناسب معاوِضے اور دوسرے فوائد مہیا کیے جائیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ ہم نے تمام حالات کا مشاہدہ کرنے کے بعد شہروں کی جو فہرست تیار کی ہے ہمارے صارفین اس سے بہتر طور سے مستفید ہوسکتے ہیں۔