’پاکستان سمیت جہاں ضرورت پڑی القاعدہ سے لڑیں گے‘
امریکہ نے کہا ہے کہ وہ القاعدہ کے ساتھ حالتِ جنگ میں ہے اور اسے شکست دینے اور کہیں بھی محفوظ پناہ گاہ بنانے سے روکنے کے لیے افغانستان، پاکستان، صومالیہ، یمن یا کہیں اور بھی ضرورت پڑی تو لڑائی لڑے گا۔
امریکی صدر کے داخلی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کے معاون جان برینن نے کہا ہے کہ یہ لڑائی اسلام کے خلاف نہیں اور یہ ایک سے زائد نسلوں تک جاری رہ سکتی ہے۔
برینن نے ان خیالات کا اظہار صدر براک اوباما کی جانب سے حکومت کی قومی سلامتی حکمت عملی یا نیشنل سکیورٹی سٹریٹجی کے اعلان سے ایک روز پہلے کیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کونسل آن فارن ریلیشن کی ایک گفتگو میں صدر اوباما کی قومی سلامتی کی حکمت عملی کا باقاعدہ اعلان جمعرات کو کریں گی۔
واشنگٹن میں بی بی سی اردو کے نامہ نگار جاوید سومرو کے مطابق جان برینن نے واشنگٹن میں قائم ایک تھنک ٹینک سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم القاعدہ اور اس کے شدت پسند ساتھیوں کے خلاف افغانستان، پاکستان، یمن صومالیہ اور ان سے کہیں آگے ان علاقوں میں جنگ لڑیں گے جہاں وہ تربیت حاصل کرتے ہیں یا (حملوں کی) منصوبہ بندی کرتے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ امریکی صدر سمجھتے ہیں کہ ہم حالتِ جنگ میں ہیں اس لیے وہ بڑی ذمہ داری سے عراق کی جنگ ختم کرنا چاہتے ہیں اور اپنی پوری توجہ افغانستان سے ملحق قبائلی علاقوں اور پاکستان کے اندر سے ہونے والے حملوں کی جانب مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی صدر کے مشیر کا کہنا تھا کہ امریکہ کی قومی سلامتی کی حکمت عملی کے دو بنیادی نکات ہیں جن میں سے ایک قلیل مدتی ہے جس کا مقصد القاعدہ اور اس سے وابستہ شدت پسند گروپوں کو تباہ کرنا ہے جبکہ دوسرا طویل مدتی ہے جس کے تحت پرتشدد شدت پسندی کا عمومی طور پر مقابلہ کرنا اور ایسے سیاسی، معاشی اور سماجی عناصر کا سدباب کرنا ہے جو بعض اوقات افراد کو شدت پسندی کی جانب دھکیل دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس جنگ میں امریکہ نہ صرف القاعدہ اور ان کے دہشت گرد اتحادیوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ ان ممالک کی مدد کر رہا ہے جو القاعدہ کے ناسور کے خلاف لڑ رہی ہیں تاکہ وہ اپنی صلاحیت بڑھا سکیں اور دہشت گردی کا مقابلہ کر سکیں۔
برینن نے کہا کہ صدر اوباما کی حکمت عملی کا مقصد اکیسویں صدی میں امریکہ کی قیادت کو ایک مرتبہ پھر قائم کرنا ہے جس کی بنیاد سلامتی، خوشحالی اور دنیا میں امریکہ کا اثر و رسوخ ہوگا۔
انہوں نے بڑی تفصیل سے اس تاثر کو رد کرنے کی کوشش کی کہ امریکہ اسلام کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’امریکہ کی لڑائی نہ کبھی اسلام کے خلاف رہی ہے اور نہ ہوگی‘ کیونکہ، بقول ان کے، دوسرے مذاہب کی طرح اسلام بھی امریکہ کا جزو ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ صدر اس بات میں بالکل واضح ہیں کہ ہمارا دشمن کون ہے۔ ’ہمارا دشمن دہشت گردی ہے کیونکہ یہ ایک حربہ ہے اور ہمارا دشمن دہشت ہے کیونکہ یہ ایک ذہنی کیفیت ہے اور امریکی خوف میں رہنے کو مسترد کرتے ہیں۔ ہمارا دشمن اسلامی اور جہادی نہیں کیونکہ جہاد اسلام کا لازم جزو ہے جس کا مقصد ہے خود کو برائیوں سے پاک کرنے کی جستجو۔۔۔ معصوم عورتوں، بچوں اور لوگوں کو قتل کرنا نہ اسلامی ہے اور نہ ہی جائز ۔۔۔ ہم ان لوگوں کو اس طرح بیان نہیں کرنا چاہتے کیونکہ اس سے ایسا غلط تاثر ملتا ہے کہ یہ لوگ کوئی مذہبی رہنما ہیں۔ حالانکہ ان کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں یہ صرف ظالم قاتل ہیں جنہوں نے دسیوں ہزاروں مسلمانوں کو بھی قتل کیا ہے‘۔
امریکی صدر کے معاون نے کہا کہ امریکہ کے دشمن القاعدہ اور اس کے دہشتگرد اتحادی ہیں جنہوں نے امریکہ پر حملے کیے اور مزید حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ برینن نے کہا کہ امریکہ صرف القاعدہ کو کمزور نہیں کرنا چاہتا بلکہ وہ چاہتا ہے اس کو اس حد تک شکست ہو کہ وہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف حملے کرنے کے قابل نہ رہے۔
برینن نہ کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے صدر کی حکمت عملی بھی واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ امریکہ القاعدہ کو کہیں محفوظ ٹھکانہ بنانے نہیں دے گا اور ان جوہری ہتھیاروں کو محفوظ بنائے گا جو القاعدہ اور اس کے دہشت گرد اتحادیوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں۔



















