’سینیئر القاعدہ رہنما کی ہلاکت‘

وقت اشاعت

اس سے پہلے ان کی ہلاکت سے متعلق سامنے آنے والی ْخبریں درست ثابت نہیں ہوئی ہیں امریکی انٹیلیجنس اداروں کا کہنا ہے کہ اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کے بعد القاعدہ کے سینیئر ترین رہنما مصطفٰی ابو یزید ممکنہ طور پر ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مصطفیٰ ابو یزید، جو شیخ سعید المصری کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، حال ہی میں پاکستان کے قبائلی علاقے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ’ہمارے پاس اس بات پر یقین کرنے کے لیے ٹھوس وجہ ہے کہ المصری گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پاکستان کے قبائلی علاقے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

امریکی مانیٹرنگ گروپس کے مطابق ایک اسلامی ویب سائٹ نے القاعدہ کی طرف سے اکیس مئی کو جاری ہونے والا ایک بیان شائع کیا ہے جس کے مطابق مصطفیٰ ابو یزید اپنی بیوی، تین بیٹیوں اور ایک نواسی سمیت کئی دیگر افراد کے ساتھ مارے گئے ہیں۔

اسلامی ویب سائٹ نے اس بارے میں مزید کوئی اطلاعات فراہم نہیں کی ہیں۔

امریکی حکام اکثر مصطفیٰ ابو یزید کو اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کے بعد القاعدہ کا سب سے بڑا لیڈر قرار دیتے ہیں۔ اس سے پہلے ان کی ہلاکت سے متعلق سامنے آنے والی ْخبریں درست ثابت نہیں ہوئی ہیں۔

مصطفٰی ابویزید القاعدہ کے رہنما ابوعبیدہ المصری کی وفات کے بعد القاعدہ کے تیسرے اہم ترین رہنما کے طور پر سامنے آئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ امریکہ میں نائن الیون حملوں کے مالیاتی امور کی نگرانی بھی انہوں نے ہی کی تھی۔