اسرائیل:غیر ملکیوں کی رہائی کا عمل شروع
اسرائیلی حکومت نے اُن تمام غیر ملکیوں کو رہا کرنا شروع کر دیا ہے جنہیں غزہ میں فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان لیجانے والے بحری بیڑے سے حراست میں لیا گیا تھا۔

ان بحری جہازوں پر اسرائیلی فوج کی فائرنگ میں کم سے کم دس افراد ہلاک ہوئے تھے۔
اسرائیلی حکومت پر بین الاقوامی دباؤ برقرار ہے کہ وہ فوری طور پر فائرنگ کے واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے۔
اس ساری صورتحال میں ہی اطلاعات ہیں کہ امدادی سامان سے بھرا ایک اور بحری جہاز غزہ کی طرف رواں دواں ہے۔
اُسرائیل نے سب سے پہلے اسلامی ملکوں سے تعلق رکھنے والے سو سے زائد زیر حراست افراد کو رہا کیا ہے۔ زیر حراست افراد کو اردن کے ساتھ واقع اسرائیلی سرحد پر لے جایا جارہا ہے جہاں ان کے حامی ان کا استقبال کرنے کے لیے وہاں موجود ہیں۔
ترکی کی وزارت خارجہ کے ایک سینیئر عہدے دار نے کہا کہ زیر حراست افراد کی رہائی سے متعلق اسرائیلی فیصلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیلی ہوش میں آ رہا ہے۔
اس سے پہلے اسرائیلی وزارتِ داخلہ کے سینیئر ترجمان ایلی ییشائی نے گزشتہ شب کہا تھا کہ زیرِ حراست لوگوں کی رہائی فوری شروع کی جائے گی۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں تمام غیر ملکی اپنے گھروں کو واپسی کے لیے روانہ کر دیے جائیں گے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اُن لوگوں کی رہائی میں کوئی دیر نہیں کر رہا جو اپنی رضامندی سے واپس جا رہے ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ بحری بیڑوں کے بعض کارکنوں کا اصرار ہے کہ وہ اپنا مقصد پورا کیئے بغیر وطن واپس نہیں جائیں گے۔ تاہم پاکستان کے ایک سینیئر صحافی طلعت حسین اپنے دیگر دو ہم وطنوں کے ہمراہ اردن میں پاکستانی سفارتخانے کے حکام تک پہنچ چکے ہیں جن کی حوالگی رات گئے عمل میں آئی۔
غزہ کے فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان لیجانے والے چھ بحری جہازوں سے، اسرائیلی حکام نے لگ بھگ سوا چھ سو کارکنوں کو گرفتار کیا تھا۔ انہیں جنوبی اسرائیل میں بر شیوا نامی جیل میں رکھا گیا۔ گزشتہ روز اپنے شہریوں سے ملاقات کے لیے برشیوا جیل میں سفیروں اور وکلاء کا تانتا بندھا رہا۔ برطانیہ کے اکتالیس کارکن بھی اسرائیلی قید میں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسرائیل میں برطانوی سفارتخانے کے اہلکار جیف می کے مطابق، اندر سے یہ بڑی جدید جیل ہے اور نئے ساز و سامان سے آراستہ ہے۔ جیل کی عمارت جتنی باہر سے اچھی ہے، ویسی ہی حالت اندر بھی ہے۔
اسرائیل کی طرف سے غیر ملکی کارکنوں کی اڑتالیس گھنٹے میں رہائی کے اعلان سے قبل نیٹو نے بھی اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل اور یورپی یونین کی آواز میں آواز ملائی۔ ایک ہنگامی اجلاس کے بعد نیٹو نے قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
نیٹو کے سیکرٹری جنرل آندرے راسموسین نے کہا ہے کہ یہ انتہائی تکلیف دہ واقعہ ہے۔ ’طاقت کے استعمال سے ہونے والے جانی نقصان پر مجھے بہت افسوس ہوا ہے اور میں مرنے والوں کے لواحقین کے غم میں شریک ہوں۔ میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اس مطالبے کی حمایت کرتا ہوں کہ اس واقعے کی جامع اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ مجھے اس تحقیقاتی رپورٹ کا انتظار رہے گا۔‘
ادھر ترکی کے وزیرِ خارجہ احمد داوو تاگلو نے واشنگٹن میں امریکی ہم منصب ہِلری کلنٹن سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات سے قبل ترک وزیرِ خارجہ نے کہا کہ وہ امریکی ردعمل سے مطمئین نہیں ہیں اور امریکی حکومت سے دو ٹوک مؤقف چاہتے ہیں۔
جواب میں ہِلری کلنٹن نے کہاکہ ان کے خیال میں صورتحال امریکہ کے لیے انتہائی مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں سب لوگوں کی طرف سے محتاط اور سوچے سمجھے رویے کی ضرورت ہے۔
اسرائیل اپنے مؤقف پر قائم ہے کہ اس کے فوجیوں نے امدادی سامان لانے والے بحری جہازوں میں اترنے کے بعد فائرنگ تب شروع کی جب ان پر حملہ کیا گیا۔ لیکن اسرائیل سے رہا ہونے کے بعد اپنے ملکوں کو پہنچنے والے چند ایک کارکنوں کے بیانات اسرائیلی مؤقف کو رد کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اسرائیل نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ بین الاقوامی معیار کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات کرائے گا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے غزہ کی طرف رواں دواں ایک اور بحری جہاز کے لیے وارننگ جاری کی ہے۔ یہ بحری جہاز آئر لینڈ کا ہے اور اس میں آئر لینڈ اور ملائیشیا کے دس کارکن سوار ہیں۔ اس جہاز کو بھی امدادی قافلے کا حصہ ہونا تھا لیکن پیچھے رہ گیا اور گزشتہ روز لیبیا کی بندرگاہ سے غزہ کے لیے لنگر انداز ہوا۔ بحری جہاز میں سوار نوبل انعام یافتہ ادیب میریڈ میگوائر اور اقوامِ متحدہ کے سابق نائب سیکرٹری جنرل ڈینس ہیلی ڈے بھی سوار ہیں۔
اقوام متحدہ کے سابق نائب سیکریٹری جنرل ڈینس ہیلی ڈے کا کہنا ہے کہ اب اسرائیل کو اپنا گناہ دھونے کا موقع ملے گا۔’ہم اسرائیل کے لیے ایک موقع ہیں کہ وہ حال ہی میں کیے گئے تشدد کے زخم دھو ڈالے۔ اسے ہماری کشتی کو غزہ میں خیر مقدم کا موقع دینا ہو گا اور ہمیں غزہ تک پہنچنے کی اجازت دینی ہو گی۔ کل، دیگر بحری جہازوں میں جو کچھ ہوا، اس نے ہمارے حوصلے اور بلند کر دیئے ہیں اور ہم یہ امداد ازخود غزہ لے کر جائیں گے۔‘
آئرلینڈ کی حکومت نے غزہ کی جانب رواں دواں اپنے کارکنوں کے اس مشن کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل بحری جہاز کو غزہ تک پہنچنے کا موقع دے۔



















