پاکستانیوں کی رہائی بارہ گھنٹے میں متوقع

پاکستان کے وزیرِ داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ غزہ کے عوام کے لیے امدادی سامان لے کر جانے والے بحری جہازوں کے قافلے فوٹیلا پر اسرائیلی حملے کے بعد حراست میں لیے جانے والے تینوں پاکستانی شہریوں کو آئندہ بارہ گھنٹے میں رہائی مل جائے گی۔
ان پاکستانیوں میں نجی ٹیلی ویژن آج نیوز کے نیوز اور کرنٹ افیئرز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر طلعت حسین اور پروڈیوسر رضا محمود آغا کے علاوہ ایک غیر سرکاری تنظیم کے چیئرمین ندیم احمد خان شامل ہیں۔
<bold><link type="page"><caption> امدادی قافلے پر حملہ، آپ کی رائے</caption><url href="http://newsforums.bbc.co.uk/ws/ur/thread.jspa?forumID=11892" platform="highweb"/></link></bold>
<bold><link type="page"><caption> دنیا بھر میں اسرائیل کی مذمت: تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2010/06/100601_gaza_protest_pics.shtml" platform="highweb"/></link> </bold>
پاکستانی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ تینوں افراد کو اسرائیل سے اردن بھیجا جائے گا جہاں انہیں پاکستان کے سفیر کے حوالے کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اردن میں پاکستانی سفیر کو اس سلسلے میں ہدایات جاری کر دی ہیں۔
ادھر پاکستان میں امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام نے امریکی سفارتی عملے کو تینوں پاکستانیوں تک رسائی دے دی ہے۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق سفارتخانے کا کہنا ہے کہ پاکستانی شہریوں کی رہائی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
اس سے پہلے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں کہا تھا کہ انہوں نے پاکستان میں امریکہ کی سفیر سے پاکستانیوں کی بارے میں معلومات حاصل کرنے میں مدد مانگی ہے کیوں کہ اسرائیل کے ساتھ پاکستان کے سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
خیال رہے کہ یہ تینوں افراد اس امدادی بحری قافلے کا حصہ تھے جس پر اسرائیلی کمانڈوز نے حملہ کر کے دس افراد کو ہلاک اور باقی کو حراست میں لے لیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ابتدائی طور پر ان تینوں کی خیریت کے بارے میں کوئی معلومات حاصل نہیں ہو سکی تھیں تاہم پیر کو رات گئے پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالباسط اور وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے بی بی سی سےگفتگو کرتے ہوئے ان کی سلامتی کی تصدیق کی تھی۔
وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا تھا کہ ان کی درخواست پر انٹرپول کے سیکرٹری جنرل نے اسرائیل انٹرپول سے رابطہ کیا ہے اور یہ کہ ان کے پاس معتبر اطلاعات ہیں کہ تمام پاکستانی محفوظ ہیں جبکہ ترجمان وزارتِ خارجہ نے بھی کہا تھا کہ یہ امریکی حکام کے استفسار پر اسرائیل کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے کہ ’ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی فہرست میں کسی بھی پاکستانی کا نام نہیں ہے‘۔
وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ’ یہ ہمارے لیے باعثِ اطمینان ہے کہ ہمارے تینوں شہری خیریت سے ہیں‘۔انہوں نے کہا کہ عمان اور مصر میں ہمارے سفارتخانے بھر پور طریقے سے اس معاملے کے بارے میں سرگرم ہیں۔
پاکستان بھر میں مظاہرے
امدادی سامان غزہ لے جانے والے بحری بیڑوں کے قافلے پر اسرائیلی حملے کے خلاف پاکستان کے مختلف شہروں میں آج دوسرے روز بھی احتجاج ہوا ہے۔کراچی میں امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کارکنان پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا ہے۔جبکہ کوئیٹہ میں پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے احتجاج کیا ہے۔
غزہ کی طرف امدادی سامان لے جانے والے بحری بیڑوں پر اسرائیلے حملے کے خلاف کراچی میں جمیعت علماء سلام اور دیگر مذہبی تنظیموں نے پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا اور اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے۔ جبکہ شیعہ طلبہ تنظیم امامیا سٹوڈنٹس آرگنائیزیشن کی طرف گورنر ہاؤس کے سامنے چوراہے پر احتجاج کیا گیا۔آئی ایس او کے کارکنان نے قریبی امریکی قونصل خانے کی جانب بڑھنا شروع کیا تو پولیس نے ،لاٹھی چارج، واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیاں کچھ دیر جھڑپیں جاری رہیں بعد میں پولیس نے انہیں منتشر کردیا۔مظاہرے میں خواتین بھی شریک تھیں۔
جبکہ اسلام آباد میں جمیعت علماء سلام (ف) کے رکن اسمبلی حافظ حسین احمد کی قیادت میں پریس کلب کے سامنے ریلی نکالی گئی ہے۔پریس کلب کے سامنے تحریک انصاف اور سول سوسائیٹی کی جانب سے بھی مظاہرے کیے گئے ہیں۔



















