امریکی شہریوں پر دہشتگردی کا الزام
نیویارک کے جان ایف کینیڈی ہوائی اڈے سے گرفتار کیے جانے والے دو امریکی شہریوں پر دہشتگردی کی بین الاقوامی کارروائی کی سازش کا الزام عائد کر دیا گیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بیس سالہ محمد محمود الیسا اور چوبیس سال کارلوس ایڈوارڈو المونٹے صومالیہ میں جہادی گروہ کا رکن بن کر بیرونِ ملک تعینات امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنا چاہتے تھے۔
ان دونوں افراد کو مصر اور پھر وہاں سے صومالیہ جانے والی پرواز پر چڑھنے سے قبل حراست میں لیا گیا تھا اور انہیں پیر کو نیو جرزی میں ایک وفاقی عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔
امریکی محکمۂ انصاف کے مطابق ریاستی اور وفاقی حکام سنہ 2006 سے نیو جرزی سے تعلق رکھنے والے محمد الیسا اور کالوس المونٹے پر نظر رکھے ہوئے تھے اور اب انھیں صومالی شدت پسند گروہ الشباب میں شامل ہو کر امریکہ سے باہر امریکیوں کو ہلاک یا اغواء کرنے کے الزام کا سامنا ہے۔
صومالیہ کے شدت پسند گروپ الشباب کا تعلق القاعدہ سے جوڑا جاتا ہے اور امریکہ نے سنہ 2008 میں اسے دہشتگرد گروہ قرار دے دیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق نیویارک پولیس کے ایک افسر نے ان دونوں افراد کی جو گفتگو ریکارڈ کی تھی اس میں انہوں نے امریکیوں کو ہلاک کرنے کی بات کی تھی۔
حکام کے مطابق یہ دونوں افراد صومالیہ کے دورے کی کئی ماہ سے تیاری کر رہے تھے اور اس کے لیے انہوں نے ہزاروں ڈالر کی بچت کی جس سے الشباب کا رکن بننے کے بعد استعمال کے لیے سازوسامان خریدا گیا۔ اس کے علاوہ یہ دونوں افراد ورچوئل ریئلیٹی گیمز اور پینٹ بال گیم کی سہولیات کی مدد سے جنگ کی تیاری کرتے رہے۔
نیویارک کے پولیس کمشنر ریمنڈ کیلی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم اس بات پر بھی فکرمند ہیں کہ اگر ان کی نشاندہی نہ ہوتی اور وہ اپنے غیر ملکی عزائم میں ناکام رہتے تو وہ امریکہ کے اندر بھی کارروائی کر سکتے تھے‘۔
صومالی حکومت نے ان گرفتاریوں کا خیرمقدم کیا ہے اور صومالی وزارتِ اطلاعات کے ایک ترجمان نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ ’صومالیہ میں قیامِ امن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ غیر ملکی دہشتگرد ہیں۔ چنانچہ ہم اس کارروائی کا خیرمقدم کرتے ہیں اور تمام ممالک سے کہتے ہیں کہ وہ الشباب کے خلاف ایسے اقدامات کریں‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی



















