’قندھار آپریشن آہستہ ہوگا‘

افغانستان میں نیٹو کے بڑے کمانڈر جنرل سٹینلے میکرسٹل نے کہا ہے کہ قندھار پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے جس فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی کی گئی تھی اس کی رفتار ارادتاً کم رکھی جائے گی۔
جنرل میکرسٹل کا کہنا ہے کہ قندھار میں فوجی آپریشن کی رفتار کم رکھنے کے فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اس کارروائی کو مقامی لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔
نیٹو نے ہلمند صوبے میں اپنی کارروائیوں کو کامیابی سے تعبیر کیا ہے لیکن مقامی لوگ کہتے ہیں کہ تشدد کے واقعات ابھی تک ختم نہیں ہوئے۔
جنرل میکرسٹل نے اس موضوع پر اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا: ’کام جلدی کرنے سے بہتر ہے کہ کام ٹھیک طرح سے کیا جائے۔‘ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس آپریشن کو کب شروع کیا جائے گا اگرچہ ایسی اطلاعات ہیں کہ یہ کارروائی موجودہ موسمِ گرما میں ہی شروع ہوگی۔
ادھر برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون افغان صدر حامد کرزئی سے مذاکرات کے لیے افغانستان میں ہیں۔
گزشتہ ہفتے افغانستان میں قومی جرگے کا انعقاد کیا گیا جس میں طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی توثیق کی گئی۔
ادھر افغان اہلکار ان خبروں کی تصدیق کی کوشش میں ہیں کہ طالبان نے جاسوسی کے الزام میں ایک سات برس کے بچے کو پھانسی لگا دیا۔

افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ اگر یہ خبر درست نکلی تو’ پھر روئے زمین پر کوئی قوت خواہ وہ کتنے ہی غیر انسانی رویے کی حامل کیوں نہ ہو، اس سے بڑا جرم کر ہی نہیں سکتی۔ سات برس کا بچہ تو بچہ ہی ہوتا ہے۔ سات سالہ بچے کو پھانسی لگانا یا گولی سے مار دینا انسانیت کے خلاف جرم ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اطلاعات کے مطابق طالبان نے منگل کے روز بچے کو ہلمند صوبے کے ضلع سنگین میں پھانسی دی۔
طالبان نے اس واقعہ کی صحت سے انکار کیا ہے۔ شدت پسندوں کے ترجمان نے الزام لگایا ہے کہ صوبائی اہلکار پروپیگینڈا کر رہے ہیں۔



















