گیری: کنسٹرکشن ورکر جو اسامہ کو مارنے نکلے

وقت اشاعت

صوبہ خیبر پختونخواہ کے ضلع چترال میں حکام کے مطابق پولیس نے ایک مشتبہ امریکی شہری کو گرفتار کرکے تفتیش کے لیے پشاور منتقل کیا ہے۔ گرفتار ہونے والا امریکی شہری اُسامہ بن لادن کی تلاش میں نکلا تھا۔

چترال میں سینیئر پولیس افسر ممتاز احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ مشتبہ امریکی شہری گیری بروکس فوکنر کو کالاش ویلی سے اس وقت گرفتار کرلیا جب وہ ایک پہاڑی راستے سے افغانستان کے صوبہ نورستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی شہری کو پہلے چترال اور بعد میں مذید تفتیش کے لیے پشاور منتقل کردیاگیا ہے۔

گیری بروکس فوکنر پچاس سالہ کنسٹرکشن ورکر ہیں اور ان کے بھائی کا کہنا ہے کہ وہ گردوں کے عارضے میں مبتلا ہیں۔

گیری کے بھائی سکاٹ فوکنر نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو ایک انٹرویو میں کہا کہ گیری ایک اچھے عیسائی ہیں۔ ’گیری کا یہ اقدام اسامہ کی سر پر لگی قیمت کے لیے نہیں تھا بلکہ حب الوطنی کا نتیجہ تھا۔‘

’میرا بھائی پاگل نہیں بلکہ نہایت ذہین آدمی ہے اور وہ نہیں بھولا کہ اسامہ نے امریکہ کے ساتھ کیا کیا تھا۔‘

سکاٹ نے مزید بتایا کہ جب گیری نے ان کو اپنا ارادہ بتایا تو انہوں نے ان کو منع نہیں کیا۔ ’میرا بھائی ایک بل ڈاگ کتے کی مانند ہے جس چیز کے پیچھے پڑتا ہے تو اس چیز کو حاصل کرنے کا بھوت سوار ہو جاتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ گیری نے اپنے تمام اوزار بیچ دیے اور اس رقم سے وہ پاکستان گئے۔ ’گیری امریکی حکومت کی اسامہ کو ڈھونڈ نکالنے کی ناکامی پر بڑا مایوس تھا اور اسی لیے وہ خود اسامہ کو مارنے نکل پڑا۔‘

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق گیری کا ریکارڈ کچھ اچھا نہیں اور وہ کولوراڈو جیل میں قید کاٹ چکا ہے۔

کولوراڈو ریاست کے حکام کا کہنا ہے کہ گیری نے انیس سو اکاسی سے انیس سو ترانوے تک کئی بار جیل کاٹی۔ انہوں نے کُل سات سال پانچ جرائم کے مرتکب ہونے پر جیل کاٹی۔ ان جرائم میں چوری اور ضمانت کی خلاف ورزی شامل ہے۔

سکاٹ فوکنر کا کہنا ہے کہ گیری چھ مرتبہ افغانستان جا چکے ہیں اور کافی حد تک مقامی زبان بھی سیکھ لی تھی۔

’گیری نے لمبی داڑھی بھی رکھ لی تھی اور طالبان کی مانند ہی لگتے تھے۔ وہ مقامی لوگوں میں گھل مل سکتے ہیں اور ان کی رسائی ان جگہوں تک ہو سکتی ہے جہاں فوجی حکام جانے کی اجازت نہیں دیتے۔‘

سکاٹ نے مزید کہا کہ ان کے بھائی کی ’مدد‘ کرنے والے بھی ہیں کیونکہ انہوں نے وہاں دوستیاں بھی بنا لیں تھیں۔ ’میں یہ نہیں بتا سکتا کہ ان کی دوستی کس کے ساتھ ہوئی تھی۔‘

اے پی کے مطابق چترال کے پولیس آفیسر ممتاز احمد خان نے بتایا ’ہم پہلے ہنس دیے جب گیری نے بتایا کہ اسامہ بن لادن کو مارنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہمارا شک اس وقت بڑھا جب ان سے اسلحہ اور رات میں دیکھنے والا آلہ ملا۔