امریکہ کے ساتھ اختلاف نہیں: مرکل

جی ایٹ اجلاس سے قبل مرکل، اوباما اور کیمرون فائل فوٹو
وقت اشاعت

جرمنی کی چانسلر اینگلا مرکل نے کہا ہے کہ عالمی معیشت کی بحالی کے لیے یورپی اور امریکی رہنماؤں میں ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔

کینیڈا میں منعقد ہونے والے جی ایٹ ممالک کے اجلاس کے بعد مرکل نےصحافیوں کو بتایا کہ امریکی صدر براک اوباما کے ساتھ بجٹ کے خسارے کو کم کرنے کے بارے میں باہمی رضامندی پائی جاتی ہے۔واضح رہے کہ اجلاس کے ایجنڈے میں بینکوں کے نظام کی اصلاحات اور عالمی اقتصادی بحران شامل ہے۔

کینیڈا اور ٹورنٹو میں ہونے والے جی ایٹ اور جی ٹوئنٹی کے سربراہی اجلاس اس وقت منعقد ہو رہے ہیں جب دنیا کی بڑی معیشتیں اس بات پر منقسم ہیں کہ خسارے کو کم کرنے کے لیے کٹوتیاں کی جائیں یا معیشت کی ترقی کے لیے سرکاری اخراجات جاری رکھے جائیں۔

صدر اوباما یورپی ممالک کی جانب سے بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے کیے جانے والے اعلانات پر متفکر ہیں اور اُن کے خیال میں ایسا کرنے سے معیشت کی بحالی میں دیر ہو سکتی ہے۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ’میں یہ واضح کرنا چاہتی ہوں کہ ہمیں معاشی ترقی کے لیے سادگی اختیار کرنا ہو گی اور اِس میں کوئی تضاد نہیں ہونا چاہیے۔‘

مرکل کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ہونے والے مذاکرات میں اختلافِ رائے نہیں بلکہ باہمی رضامندی پائی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے جی ٹوئنٹی میں شامل ممالک کو پچھلے ہفتے ایک خط میں متنبہ کیا تھا کہ قومی خسارے کو بہت جلد ختم کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ امریکہ صدر کا خیال ہے کہ اس سے معاشی بحالی متاثر ہو گی۔

دوسری جانب امریکی وزیرِ خزانہ ٹموتھی گیتھنر نے بی بی سی کو بتایا کہ یورپی ممالک ترقی اور اخراجات کم کرنے پر توجہ دیں۔ان کا کہنا تھا ’یورپ کے پاس آپشن ہے کہ وہ ایسی اصلاحات اور پالیسیاں بنائے جس سے مستقبل میں ترقی میں تیزی آ سکے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ٹورنٹو میں ہونے والے جی ٹوئنٹی سربراہی اجلاس میں ہمیں موقع ملے گا کہ ہم بیٹھ کر اس پر غور کر سکیں کہ آیا ہمارے پاس وسیع حکمت عملی موجود ہے جس سے ہماری معیشت کی بحالی میں تیزی آ سکے۔

دریں اثناء برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس بات کی تردید کی ہے کہ بجٹ کٹوتیوں کے حوالے اُن کے صدر اوباما کے ساتھ کسی قسم کے اختلافات ہیں۔

ڈیوڈ کیمرون نےاجلاس سے قبل بی بی سی کو قبل بتایا ’ایسے ممالک جن کو زیادہ خسارے کا سامنا ہے انہیں چاہیے کہ وہ اُسے کم کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں کیونکہ ہماری معیشتوں کو سب سے بڑا خطرہ خسارے سے ہے۔‘

اِس سے قبل جی ایٹ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دنیا میں ماؤں اور بچوں کی اموات کی شرح میں کمی کے لیے جی ایٹ میں شامل ممالک اگلے پانچ سالوں میں پانچ ارب ڈالر کی امداد دیں گے تاہم انسانی امداد کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اِس امداد کو ناکافی قرار دیا ہے۔